مسیحی انفاس — Page 256
اور بھی عورتیں تھیں۔ اور انہوں نے پتھر کو قبر پر سے ڈھل کا ہوا پایا اس مقام میں ذرہ غور کرو) اور اندر جا کے خداوند یسوع کی لائش نہ پائی ، دیکھو لوقا باب ۲۴- آیت ۲ و ۳ - اب اندر جانے کے لفظ کو ذرہ سوچو۔ ظاہر ہے کہ اُنسی قبر کے اندر انسان جا سکتا ہے کہ ہوا ایک کوٹھے کی طرح ہو۔ اور اُس میں کھڑکی ہو۔ اور ہم اپنے محل پہ اسی کتاب میں بیان کریں گے کہ حال میں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں پائی گئی ہے ۔ وہ بھی اس قبر کی طرح کھڑکی دار ہے۔ اور یہ ایک بڑے راز کی بات ہے جس پر توجہ کرنے سے محققین کے دل ایک عظیم الشان نتیجہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ مسیح ہندوستان میں ۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۴ تا ۲۷ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں پیلاطس کا وہ قول ہے جو انجیل مرقس میں لکھا ھا ہے اور وہ یہ ہے ۔ اور جبکہ شام ہوئی اس لئے کہ تیاری کا دن تھا جو سبت سے پہلے ہوتا۔ یوسف ارامتیا جو نامور مشیر اور وہ خود خدا کی بادشاہت کا منتظر تھا آیا اور دلیری سے پلاٹس کے پاس جا کے بیسوع کی لاش مانگی اور پلاطس نے متعجب ہو کر شبہ کی کہ وہ لینے مسیح ایسا جلد مرگیا دیکھو مرقس باب ۶ آیت ۴۲ سے ۴۴ تک۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ عین صلیب کی گھڑی میں ہی یسوع کے مرنے پر شبہ ہوا۔ اور شہد بھی ایسے شخص نے کیا جس کو اس بات کا تجربہ تھا کہ اس قدر مدت میں صلیب پر جان نکلتی ہے۔ لکھتا مسیح ہندوستان میں۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۷ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو انجیل سے ہم کو ملی ہیں انجیل کی وہ عبارت ہے جو ذیل ہیں ھتا ہوں" پھر یہودیوں نے اُس لحاظ سے کہ لاشیں سبت کے دن صلیب پر نہ رہ جائیں۔ کیونکہ وہ دن طیاری کا تھا۔ بلکہ بڑا ہی سبت تھا۔ پلاطوس سے عرض کی کہ انکی ٹانگیں توڑی اور لاشیں اتاری جائیں۔ تب سپاہیوں نے آکر پہلے اور دوسرے کی ٹانگیں جو اس کے ساتھ ۲۵۶ ۲۱۲ ۲۱۳