مسیحی انفاس — Page 255
سے اپنے حواریوں کو ملا اور پیادہ پا جلیل کی طرف ایک لمبا سفر کیا اور سواریوں کو اپنے زخم دکھلائے اور رات اُن کے پاس روٹی کھائی اور سویا۔ اور آگے چل کر ہم ثابت کریں گے کہ کہ اُس نے اپنے زخموں کا ایک مرہم کے استعمال سے علاج کیا۔ اب یہ مقام ایک سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ایک جلالی اور ابدی حسیم پانے کے بعد یعنے اس غیر فانی جسم کے بعد جو اس لائق تھاکہ کھانے پینے سے پاک ہو کر ہمیشہ خدائے تعالیٰ کے دائیں ہاتھ بیٹھے اور ہر ایک داغ اور درد اور نقصان سے منزہ ہو۔ اور ازلی ابدی خدا کے جلال کا اپنے اندر رنگ رکھتا ہو۔ ابھی ہمیں نقص باقی رہ گیا کہ اپر صلیب اور کھیلوں کے تازہ زخم موجود تھے جن سے خون بہتا تھا اور درد اور تکلیف اُنکے ساتھ تھی جنکے واسطے ایک مرہم بھی طیار کیگئی تھی۔ اور جلالی اور غیر فانی جسم کے بعد بھی جو اب تک سلامت اور بے عیب اور کام اور غیر متغیر چاہیئے تھا۔ کے نے کئی قسم کے نقصانوں سے بھرار ہا اور خود مسیح نے حواریوں کو اپنا گوشت اور ہڈیاں دکھلائیں اور پھر اسی پر کتابت نہیں بلکہ اس فانی جسم کے لوازم میں سے تھوک اور پیاس کی درد بھی موجود تھی ۔ ورنہ اس لغو حرکت کی کیا ضرورت تھی کہ مسیح جلیل کے سفر میں کھانا کھاتا اور پانی پیت اور آرام کرتا اور سوتا۔ اس میں کیا شک ہے کہ اس عالم میں جیم خانی کے لئے بھوک اور پیاس بھی ایک درد ہے جس کے حد سے زیادہ ہونے سے انسان مر سکتا ہے۔ پس بلا شبہ یہ بات سچ ہے کہ صحیح صلیب پر نہیں مرا اورنہ کوئی نیا جلالی جسم پایا بلکہ ایک شخشی کی حالت ہوگئی تھی جو مرنے سے مشابہ تھی۔ اور خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ اتفاق ہوا کہ جس قبر میں وہ رکھا گیا وہ اس ملک کی قبروں کی طرح نہ تھی بلکہ ایک ہوا دار کو ٹھہ تھا جس میں ایک کھڑکی تھی۔ اور اُس زمانہ میں یہودیوں میں یہ رسم تھی کہ قبر کو ایک ہوادار اور کشادہ کو ٹھہ کی طرح بناتے تھے اور اس میں ایک کھڑکی رکھتے تھے اور ایسی قبریں پہلے سے موجود رہتی تھیں۔ اور پھر وقت پر میت اس میں رکھی جاتی تھی۔ چنانچہ یہ گواہی انجیلوں سے صاف طور پر ملتی ہے۔ انجیل لوقائیں یہ عبارت ہے" اور وسے یعنے عورتیں اتوار کے دن بڑے تڑکے لینے کچھ اندھیرے سے ہی ان خوشبوؤں کو جو طیار کی تھیں لے کر قبر پر آئیں اور ان کے ساتھ کئی ۲۵۵