مسیحی انفاس — Page 248
تھی کہ اُس کا خدائے تعالیٰ سے رشتہ تعلق ٹوٹ گیا تھا۔ اور بجائے ایک دلی اور یک جہتی کے مغائرت اور بائنت اور عداوت اور بیزاری پیدا ہوگئی تھی۔ اور بجائے نور کے دل پر تاریکی چھا گئی تھی۔ هر یہ بھی یادر ہے کہ ایسا خیال صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی شان نبوت اور اور مرتبہ رسالت کے ہی مخالف نہیں بلکہ اُن کے اس دھوائی کمال اور پاکیزگی او محبت کمال معرفت کے بھی مخالف ہے جو انہوں نے جا بجا انجیل میں ظاہر کیا ہے ۔ انجیل کو پڑھ کر دیکھو کہ حضرت عیسی علیہ السلام صاف دعوی کرتے ہیں کہ میں جہان کا نور ہوں ۔ میں بادی ہوں۔ اور لیکن خدا سے اعلیٰ درجہ کی محبت کا تعلق رکھتا ہوں۔ اور میں نے اُس سے پاک پیدائیں پائی ہے اور میں خدا کا پیارا بیٹا ہوں ۔ پھر با وجود ان غیر منفک اور پاک تعلقات کے لعنت کا نا پاک مفہوم کیونکر مسیح کے دل پر صادق آسکتا ہے ہر گز نہیں پیس بلا شبہ یہ بات ثابت ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا یعنے صلیب پر نہیں مرا کیونکہ اسکی ذات صلیب کے نتیجہ سے پاک ہے اور جبکہ مصلوب نہیں ہوا تو لعنت کے ناپاک کیفیت سے بیشک اسکے ول کو بچایا گیا۔ اور با ہا۔ اور بلا شبہ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلا کہ وہ آسمان پر ہرگز نہیں گیا کیونکہ آسمان پر جانا اس منصوبہ کی ایک جزء تھی اور مصلوب ہونے کی ایک فرع تھی۔ پس جبکہ ثابت ہوا کہ وہ نہ لعنتی ہوا اور نہ تین دن کے لئے دوزخ میں گیا۔ اور نہ مرا تو پھر یہ دوسری چیز آسمان پر جانے کی بھی باطل ثابت ہوئی اور اس پر اور بھی دلائل ہیں جو انجیل سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔ چنانچہ منجملہ انکے ایک یہ قول ہے جو مسیح کے منہ سے نکلا لیکن میں اپنے جی اُٹھنے کے بعد تم سے آگے جلیل کو جاؤں گا لو جاؤں گا دیکھو متی باب ۲۶ آیت ۳۲ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح قبر سے نکلنے کے بعد جلیل کی طرف گیا تھا نہ آسمان کی طرف ۔ اور مسیح کا یہ کلمہ کہ اپنے جی اٹھنے کے بعد اس سے مرنے کے بعد جینا مراد نہیں ہو سکتا بلکہ چونکہ یہودیوں اور عام لوگوں کی نظر میں وہ صلیب پر مر چکا تھا اس لیئے مسیح نے پہلے سے اُنکے آئیندہ خیالات کے موافق یہ کلمہ استعمال کیا۔ اور و حقیقت جبس ۲۴۸