مسیحی انفاس — Page 247
۲۴۷ ا میچ جیسے برگزیدہ پر ایک دم کے لئے بھی تجویز کر ناسخت ظلم اور نا انصافی ہے کیونکہ الفاق تمام اہل زبان لعنت کا مفہوم دل سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اس حالت میں کسی کو ملعون کہا جائیگا۔ جب کہ حقیقت میں اس کا دل خدا سے برگشتہ ہو کر سیاہ ہو جائے اور خدا کی رحمت سے بے نصیب اور خدا کی محبت سے بے بہرہ اور خدا کی معرفت سے بکلی تهیدست اور خالی اور شیطان کی طرح اندھا اور بے بہرہ ہو کر گمراہی کے زہر سے بھرا ہوا ہو۔ اور خدا کی محبت بہت اور اور معرفت معرفت کا کانور ایک ذرہ اُس میں باقی نہ ر ہے اور تمام تعلق مہر و وفا کا ٹوٹ جائے اور اُس میں اور خدا میں باہم بغض اور نفرت اور کراہت اور عداوت پیدا ہو جائے۔ یہانتک کہ خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے۔ نوض ہر ایک صفت میں شیطان کا وارث ہو جائے اور اسی وجہ سے لعین شیطان کا نام ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ ملعون کا مفہوم ایسا پلید اور ناپاک ہے کہ کسی طرح کسی راستباز پر جو کہ اپنے دل میں خدا کی محبت رکھتا ہے صادق نہیں آسکتا۔ افسوس کہ عیسائیوں نے اس اعتقاد کے ایجاد کرنے کے وقت لعنت کے مفہوم پر غور نہیں کی ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ لوگ ایسا خراب لفظ مسیح جیسے راستباز کی نسبت استعمال کر سکتے کیا ہم کہ سکتے ہیںکہ میں پر کبھی ایسا زمان آیا تھاکہ اس اول در حقیقت خدا سے برگشتہ اور خدا کا منکر اور خدا سے بیزار اور خدا کا دشمن ہوگیا تھا کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ میچے کے دل نے کبھی یہ محسوس کیا تھا کہ وہ اب خدا سے برگشتہ اور خدا کا شمن اور کفر اور انکار کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے، پھر اگر مسیح کے دل پر کبھی ایسی حالت نہیں آئی بلکہ وہ ہمیشہ محبت اور معرفت کے نور سے بھرا رہا تو اے دانشمند و ا یہ سوچنے کا مقام ہے کیونکرہم کرسکتے ہیںکہ مسیح کے دل پر نہ ایک لعنت بلکہ ہزاروں خدائی لعنتیں اپنی کیفیت کے ساتھ نازل ہوئی تھیں۔معاذ اللہ ہرگز نہیں۔ تو پھر ہم یونکر کہ سکتے ہیں کہ نعوذ باللہ وہ لعنتی ہوا ؟ اشد و انا یہ کیسی نجات کی خواہش ہے جس سے ایک سچائی کا خون کیا جاتا اور ایک پاک نبی اور کامل انسان کی نسبت یہ اعتقاد کیا جاتا ہے کہ گویا اس پر یہ حالت بھی آئی دیکھو کتب لخت، لسان العرب صحاح ہو ہری - قاموس محیط تاج العروس وغیرہ ۔ منا