مسیحی انفاس — Page 249
۲۴۹ شخص کو صلیب پر کھینچا گیا اور اسکے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھو کے گئے یہانتک کہ وہ اس تکلیف سے غشی میں ہو کر مردہ کی سی حالت میں ہو گیا۔ اگر وہ ایسے صدمہ سے نجات پاکر پھر ہوش کی حالت میں آجائے تو اُس کا یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ میں پھر زندہ ہو گیا اور بلاشبہ اس صدمہ عظیمہ کے بعد مسیح کا بج جانا ایک معجزہ تھا معمولی بات نہیں تھی۔ لیکن یہ درست نہیں ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ مسیح کی جان نکل گئی تھی۔ سچ ہے کہ انجیلوں میں ایسے لفظ موجود ہیں لیکن یہ اس قسم کی انجیل نویسوں کی غلطی ہے جیسا کہ اور بہت سے تاریخی واقعات کے لکھنے میں انہوں نے غلطی کھائی ہے۔ انجیلوں کے محقق شارحوں نے اس بات کو مان لیا ہے کہ انجیلوں میں دو حصے ہیں (1) ایک دینی تعلیم ہے جو جواریوں کو حضرت مسیح علیہ السلام سے ملی تھی جو اصل روح انجیل کا ہے (۲) دوسرے تاریخی واقعات ہیں جیسے حضرت عیسی کا شجرہ نسب اور ان کا پکڑا جانا اور مارا جانا اور سیح کے وقت میں ایک معجزہ نما تالاب کا ہونا وغیرہ بیہ وہ امور ہیں جو لکھنے والوں نے اپنی طرف سے لکھے تھے۔ سو یہ باتیں الہامی نہیں ہیں بلکہ لکھنے والوں نے اپنے خیال کے موافق لکھے ہیں اور بعض جگہ مبالغہ بھی حد سے زیادہ کیا ہے ۔ جیسا کہ ایک جگہ لکھا ہے کہ جس قدر ریح نے کام کئے یعنے معجزات دکھلائے اگر وہ کتابوں میں لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں سمانہ سکتیں۔ یہ کس قدر اس قدر مبالغہ ہے۔ ماسوا اسکے ایسے بڑے صدمہ کو جو مسیح پر وارد ہوا تھا موت کے ساتھ تعبیر کرنا خلاف محاورہ نہیں ہے۔ ہر ایک قوم میں قریباً یہ محاورہ پایا جا تا ہے کہ و شخص ایک مہلک صدمہ میں مبتلا ہو ہتا ہو کر پھر آخری جائے۔ اسکو کہا جاتا ہے کہ نئے سرے زندہ ہوا اور کسی قوم اور ملک کے محاوہ میں ایسی بول چال میں کچھ بھی تکلف نہیں۔ ان سب امور کے بعد ایک اور بات ملحوظ رکھنے کے لائق ہے کہ برنباس کی انجیل میں جو غالبا لندن کے کتب خانہ میں بھی ہوگئی یہ بھی لکھا ہے کہ صحیح مصلوب نہیں ہوا۔ اور نہ صلیب پر جان دی۔ اب ہم اس جگہ یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ گو یہ کتاب انجیلوں میں داخل نہیں کی گئی اور بغیر کسی فیصلہ کے رد کر دی گئی ہے مگر اس میں کیا شک۔ با شک ہے کہ یہ ایک پرانی