مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 632

مسیحی انفاس — Page 214

۲۱۴ ۱۸۲ نہایت ہی لائق رحم ہے۔ اور یہ واقعہ پیش کرنے کے لائق نہیں بلکہ چھپانے کے لائق ہے۔ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات۔ روحانی خزائن ۔ جلد ۱۲ صفحه ۳۳۰، ۳۳۱ غرض نجات کے لئے اس منصوبہ پر بھروسہ کرنا صحیح نہیں ہے۔ اور گناہ سے باز رہنے کو اس منصوبہ سے کوئی بھی تعلق نہیں پایا جاتا۔ بلکہ دوسرے کی نجات کے لئے مسیح نے اپنی رضامندی خود کشی کرنا گناہ دکشی کرنا گناہ ہے۔ اور میں خدا میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہر گز مسیح نے اپنی میں لیب کو مقصور رضامندی سے صلیب کو منظور نہیں کیا۔ بلکہ شریر یہودیوں نے جو چاہا اس سے کیا۔ اور کیا ١٨٣ و نے جو سے مسیح نے صلیبی موت سے بچنے کے لئے باغ میں ساری رات دعا کی۔ اور اس کے آنسو جاری ہو گئے ۔ تب خدا نے بباعث اس کے تقوے کے اس کی دعا قبول کی اور اس کو دعا ا صلیبی موت سے بچالیا۔ جیسا کہ خود انجیل میں بھی لکھا ہے۔ پس یہ کیسی تہمت ہے کہ مسیح نے اپنی رضامندی سے خود کشی کی۔ لیکچر لاہور ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۶۵ کیا کسی دل کو اس پر اطمینان ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خدا کہلا کر ساری رات موت سے بچنے کے لئے دعا کر تار ہے۔ اور قبول نہ ہو۔ ایسا ہی کبھی عقل یہ تجویز نہیں کر سکتی ہی یہ کی کسی کی خود کشی سے کہ کسی کی خود کا خود کشی سے دوسرے کے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ اگر مسیح کے روٹی کھانے سے دوسروں کے گناہ بخشے حواریوں کے پیٹ بھر جاتے تھے۔ اور عقل کے نزدیک یہ جائز ہے تو شاید یہ بھی سچ ہو کہ جاسکتے ہیں ؟ کسی کے درد سر کا علاج اپنے سر میں پتھر مارنا بھی ہے۔ ۱۸۴ ملفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۱۱۷ اب باقی رہا وہ مسئلہ جو انجیل نے نجات کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے یعنی حضرت اس تعلیم کو قرآن کیا۔ عیسی علیہ السّلام کا مصلوب ہونا اور کفارہ ۔ اس تعلیم کو قرآن شریف نے قبول نہیں کیا شریف کے قبول نہیں اور اگرچہ حضرت عیسی کو قرآن شریف ایک برگزیدہ نبی مانتا ہے اور خدا کا پیارا اور مقرب اور وجیہہ قرار دیتا ہے لیکن اس کو محض انسان بیان فرماتا ہے اور نجات کے لئے اس امر کو