مسیحی انفاس — Page 215
۲۱۵ ضروری نہیں جانتا کہ ایک گناہگار کا بوجھ کسی بے گناہ پر ڈال دیا جائے اور عقل بھی تسلیم نہیں کرتی کہ گناہ تو زید کرے اور بکر پکڑا جائے ۔ اس مسئلہ پر تو انسانی گورنمنٹوں نے بھی عمل نہیں کیا۔ افسوس کہ نجات کے بارہ میں عیسائی صاحبوں نے غلطی کی ہے۔ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۱۴ خدا کا قدیم سے قانون قدرت ہے کہ وہ توبہ اور استغفار سے گناہ معاف کرتا ۱۸۵ ہے۔ اور نیک لوگوں کی شفاعت کے طور پر دعا بھی قبول کرتا ہے۔ مگر یہ ہم نے خدا کے توبہ و استغفار سے گناہ قانون قدرت میں کبھی نہیں دیکھا کہ زید اپنے سر پر پتھر تارے اور اس سے بکر کی دردسر معاف ہوتے ہیں جاتی رہے۔ پھر ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کی خودکشی سے دوسروں کی اندرونی بیماری کا دور ہونا کس قانون پر مبنی ہے ۔ اور وہ کونسا فلسفہ ہے جس سے ہم معلوم کر سکیں کہ مسیح کا خون کسی دوسرے کی اندرونی ناپاکی کو دور کر سکتا ہے۔ بلکہ مشاہدہ اس کے برخلاف گواہی دیتا ہے۔ کیونکہ جب تک مسیح نے خود کشی کا ارادہ نہیں کیا تھا تب تک عیسائیوں میں نیک چلنی اور خدا پرستی کا مادہ تھا۔ مگر صلیب کے بعد تو جیسے ایک بند ٹوٹ کر ہر ایک طرف دریا کا پانی پھیل جاتا ہے۔ یہی عیسائیوں کے نفسانی جوشوں کا حال ہوا۔ کچھ شک نہیں کہ اگر یہ خود کشی مسیح سے بالارادہ ظہور میں آئی تھی تو بہت بیجا کام کیا۔ اگر وہی یہ خود کی ہے۔ خود کشی کی بجائے وعظ و زندگی وعظ و نصیحت میں صرف کرتا تو مخلوق خدا کو فائدہ پہنچتا۔ اس بیجا حرکت سے بھی ایک کام کے لیے دوسروں کو کیا فائدہ ہوا۔ ہاں اگر مسیح خود کشی کے بعد زندہ ہو کر یہودیوں کے روبرو تو زیادہ مفید تھا آسمان پر چڑھ جاتا تو اس سے یہودی ایمان لے آتے۔ مگر اب تو یہودیوں اور تمام عقلمندوں کے نزدیک مسیح کا آسمان پر چڑھنا محض ایک فسانہ اور گپ ہے۔ چشمہ سیچی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۷، ۳۴۸ ۱۸۶ کفارہ کا مسئلہ جب ان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسیح نے ان کے سارے گناہ اٹھا لئے پر سمجھ نہیں آتا کہ وہ کونسی چیز ہو سکتی ہے جو ان کو اعمال کی طرف متوجہ کرے ۔ اعمال کا جوان کو مدعا تو نجات ہے اور ر یہ ان کو بلا مشقت محنت صرف خونی مسیح پر اتنا ایمان رکھنے سے (کہ وہ خون اس کے بعد اعمال کی کیا ضرورت ہے ؟ ہمارے لئے لئے مر مر گیا۔ ہمارے گناہوں کے بدلہ لعنتی ہوا ) مل جاتی ہے تو اب نجات کے