مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 632

مسیحی انفاس — Page 197

۱۹۷ نجات کو اسی زندگی میں پالیتے ہیں مگر آپ کے مذہب میں حضرت عیسیٰ نے جو نشانیاں نجات یا بندوں یعنی حقیقی ایمانداروں کی لکھی ہیں وہ آپ میں کہاں موجود ہیں۔ مثلاً جیسے کہ مرقس ۱۷-۱۲ میں لکھا ہے۔ اور وے جو ایمان لائیں گے ان کے ساتھ یہ علامتیں ہوں گی کہ وہ میرے نام سے دیووں کو نکالیں گے اور نئی زبانیں بولیں گے۔ سانپوں کو اٹھا لیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پیٹیں گے انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا۔ ولے بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو چنگے ہو جائیں گے ۔ تو اب میں بارب التماس کرتا ہوں اور اگر ان الفاظ میں کچھ درشتی یا مرارت ہو تو اس کی معافی چاہتا ہوں کہ یہ تین بیمار جو آپ نے پیش کئے ہیں یہ علامت تو بالخصوصیت مسیحیوں کے لئے حضرت علیسی قرار دے چکے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر تم سچے ایماندار ہو تو تمہاری یہی علامت ہے کہ بیمار پر ہاتھ رکھو گے تو وہ چنگا ہو جائے گا۔ اب گستاخی معاف اگر آپ سچے ایماندار ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو اس وقت تین بیمار آپ ہی کے پیش کردہ موجود ہیں آپ ان پر ہاتھ رکھ دیں اگر وہ چنگے ہو گئے تو ہم قبول کر لیں گے کہ بیشک آپ سچے ایماندار اور نجات یافتہ ہیں ورنہ کوئی قبول کرنے کی راہ نہیں۔ کیونکہ حضرت مسیح تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہوتا تو اگر تم پہاڑ کو کہتے کہ یہاں سے چلا جاتو وہ چلا جاتا۔ مگر خیر میں اس وقت پہاڑ کی نقل مکانی تو آپ سے نہیں چاہتا کیونکہ وہ ہماری اس جگہ سے دور ہیں لیکن یہ تو بہت اچھی تقریب ہو گئی کہ بیمار تو آپ نے ہی پیش کر دیئے۔ اب آپ ان پر ہاتھ رکھو اور چنگا کر کے کے دکھلاو۔ دیکھ ورنہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ مگر آپ پر یہ واضح رہے کہ یہ الزام ہم پر عائد نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جل شانہ ۔ جل شانہ نے قرآن کریم میں ہماری یہ نشانی نہیں رکھی کہ بالحصہ که با خصوصیت تمہاری یہی نشانی ہے کہ جب تم بیماروں پر ہاتھ رکھو گے تو اچھے ہو جائیں گے۔ ہاں یہ فرمایا ہے کہ میں اپنی رضا اور مرضی کے موافق تمہاری دعائیں قبول کروں گار اور کم سے کم یہ کہ اگر ایک دعا قبول کرنے کے لائق نہ ہو اور مصلحت انہی کے مخالف ہو تو اس میں اطلاع دی جائے گی۔ یہ کہیں نہیں فرمایا کہ تم کو اقتدار دیا جائے گا کہ تم اقتداری طور پر جو چاہو وہی کر گزرو گے۔ مگر حضرت مسیح کاتویہ حکم معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیماروں وغیرہ کے چنگا کرنے میں اپنے تابعین کو اختیار بخشتے ہیں جیسا کہ متی و ا باب امیں لکھا ہے۔ پھر اس نے بارہ شاگردوں کو پاس بلا کے انہیں قدرت بخشی کہ ناپاک روحوں کو نکالیں اور ہر