مسیحی انفاس — Page 196
۱۹۶ اور دوسروں سے بھی دعا کر اتا رہا اور کہتا رہا کہ اے خدا تیرے آگے کوئی چیز انہونی نہیں ۔ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ ٹل جائے ۔ مگر وہ دعا قبول ہی نہیں ہوئی ۔ اگر کوئی کہے کہ وہ ۔ کفارہ ہونے کے واسطے آئے تھے۔ اس لئے یہ دعا قبول نہیں ہوئی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ان کو معلوم تھا کہ وہ کفارہ کے لئے آئے ہیں۔ پھر اس قدر بزدلی کئے کیا معنی لئے یہ دعاقبول ہم جب ان کو وہ کف ہیں۔ اگر ایک افسر طاعون کی ڈیوٹی پر بھیجا جاوے اور وہ کہہ دے کہ یہاں خطرے کا محل ہے۔ مجھے فلاں جگہ بھیج دو تو کیا وہ احمق نہ سمجھا جائے گا۔ جبکہ مسیح کو معلوم تھا کہ وہ صرف کفارہ ہی ہونے کو بھیجے گئے ہیں۔ تو اس قدر لمبی دعاوں کی کیا ضرورت تھی ؟ ابھی کیا کفارہ زیر تجویز امر تھا۔ یا ایک مقرر شدہ امر تھا۔ غرض ایک داغ ہو۔ دوداغ ہوں ، جس کی بیشمار داغ ہوں کیا وہ خدا ہو سکتا ہے؟ خدا تو کیا عظیم الشان انسان بھی نہیں ہو ملفوظات ۔ جلد ۲ صفحه ۴۱، ۴۲ ۱۶۳ شفاعت کے مسئلہ کے فلسفہ کو نہ سمجھ کر احمقوں نے اعتراض کیا ہے اور شفاعت اور کفارہ کو ایک قرار دیا۔ حالانکہ یہ ایک نہیں ہو سکتے۔ کفارہ اعمال حسنہ سے مستغنی کرتا ایک نہیں ہو سے ہوسکتے۔ کفرہ اعمال حسنہ سے مستغنی کرتا شفاعت اور کفارہ میں ہے اور شفاعت اعمال حسنہ کی تحریک ۔ جو چیز اپنے اندر فلسفہ نہیں رکھتی ہے۔ وہ پیچ فرق ۱۶۴ ہے۔ ہمارا یہ دعوی ہے کہ اسلامی اصول اور عقائد اور اس کی ہر تعلیم اپنے اندر ایک فلسفہ رکھتی ہے اور علمی پیرا یہ اس کے ساتھ موجود ہے جو دوسرے مذاہب کے عقائد میں نہیں ملتا۔ ملفوظات ۔ جلد ۴ صفحه ۴۲۷ میں نے ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب کی خدمت میں یہ تحریر کیا تھا کہ جیسے کہ آپ دعوی کرتے ہیں کہ نجات صرف مسیحی مذہب میں ہے ایسا ہی قرآن میں لکھتا ہے کہ نجات صرف نجات کی نشانیاں اسلام میں اسلام میں ہے۔ اور آپ کا تو صرف اپنے لفظوں کے ساتھ دعوی اور میں نے وہ آیات عیسائیوں میں مفقود بھی پیش کر دی ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ دعوی بغیر ثبوت کے کچھ عزت اور وقعت نہیں ہیں۔ رکھتا۔ سو اس بناء پر دریافت کیا گیا تھا کہ قرآن کریم میں تو نجات اور بندہ کی نشانیاں لکھی ہیں جن نشانوں کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ اس مقدس کتاب کی پیروی کرنے والے