مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 632

مسیحی انفاس — Page 195

ہے۔ ۱۹۵ کتاب البرية - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۶ 141 کے لئے ہلاک ہونے عیسائیوں کا یہ کیسا خدا ہے جس کو دوسروں کے چھوڑانے کے لئے بجز اپنے تئیں کا خدا ہلاک کرنے کے اور کوئی تدبیر ہی نہیں سوجھتی۔ اگر در حقیقت زمین و آسمان کا مدیر گناہوں سے چھڑانے مالک اور خالق ہیں بچارہ ہے تو پھر خدائی کا انتظام سخت خطرہ ہیں۔ رہ ہے تو پھر خدائی کا انتظام سخت خطرہ میں ہے۔ بیشک یہ خواہش والا خدا ہے تو خدائی کا تو نہایت عمدہ ہے جو انسان گناہ سے پاک ہو۔ مگر کیا گناہ سے پاک ہونے کا یہی طریق انتظام سخت خطرہ میں اور ہے۔ ہے کہ ہم کسی غیر آدمی کی خود کشی پر بھروسہ رکھ کر اپنے ذہن میں آپ ہی یہ فرض کر لیں کہ ہم گناہ سے پاک ہو گئے۔ بالخصوص ایسا آدمی جو انجیل میں خود اقرار کرتا ہے، جو میں نیک نہیں۔ وہ کیونکر اپنے اقتدار سے دوسروں کو نیک بنا سکتا ہے۔ اصل حقیقت نجات جو خود اقرار کرتا ہے کہ کی خداشناسی اور خدا پرستی پر ہے۔ پس ایسے لوگ جو اس غلط فہمی کے دوزخ میں پڑے میں دوسروں وہ ہوئے ہیں جو مریم کا صاحب زادہ ہی خدا ہے ۔ وہ کیسے حقیقی نجات کی امید رکھ سکتے ہیں۔ اشتہار ۲۹ دسمبر ۱۸۹۵ - مجموعہ اشتہارات ۔ جلد ۲ صفحہ ۱۸۹ جس قدر مذہب دنیا میں موجود ہیں سب کے سب بے برکت اور بے نور اور مردہ کو کیونکر بنا ہے؟ ہیں اور پاک تعلیم سے بے بہرہ محض ہیں۔ عیسائیوں نے یہ نمونہ دکھایا کہ ایک عاجز بندہ کو خدا بنا دیا۔ جس نے یہودیوں جیسی تباہ حال قوم سے جو جس کی اپنی دعا بے اثر صُرَبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ وَالمَسْكَنَة ۔ في مصداق تھی۔ ماریں لے لیے دی ہو سکتے گئی وہ دوسروں کے کھائیں۔ اور اخر صلیب پر لٹکایا گیا۔ اور ان کے عقیدہ کے موافق ملعون ہو کر ایلی ایلی کہا ہے ؟ سبقتنی کہتے ہوئے جان دے دی۔ غور تو کرو کیا ایسی صفات والا کبھی خدا ہو سکتا ہے۔ وہ تو خدا پرست بھی نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ وہ خود خدا ہو۔ عیسائی دکھاتے ہیں کہ اس کی وہ ساری رات کی پر سوز دعا محض بے اثر گئی۔ اس سے زیادہ بے برکتی کا ثبوت کیا را ہو سکتا ہے۔ اور اس سے کیا توقع ہو سکتی ہے کہ وہ دوسروں کے لئے شفیع ہو سکتا ہے۔ ہم کو یاد نہیں کہ دو گھنٹے بھی دعا کے لئے ملے ہوں اور وہ دعا قبول نہ ہوئی ہو۔ ابن اللہ بلکہ خود خدا کا معاذ اللہ یہ حال ہے کہ ساری رات رو رو کر چلا چلا کر خود بھی دعا کر تا رہا