مسیحی انفاس — Page 198
- طرح کی بیماری اور دکھ درد کو دور کریں۔ اب یہ آپ کا فرض اور آپ کی ایمانداری کا ضرور نشان ہو گیا کہ آپ ان بیماروں کو چنگا کر کے دکھلادیں یا یہ اقرار کریں کہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ہم میں ایمان نہیں اور آپ کو یاد رہے کہ ہر ایک شخص اپنی کتاب کے موافق مواخذہ کیا جاتا ہے۔ ہمارے قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ تمہیں اقتدار دیا جائے گا بلکہ صاف فرمادیا کہ قل انما الأيات عند الله یعنی ان کو کہہ وہ کہ نشان اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں جس نشان کو چاہتا ہے اس نشان کو ظاہر کرتا ہے بندہ کا اس پر زور نہیں ہے کہ جبر کے ساتھ اس سے ایک نشان لیوے یہ جبر اور اقتدار تو آپ ہی کی کتابوں میں پایا جاتا ہے بقول آپ کے مسیح اقتداری معجزات دکھلاتا تھا اور اس نے شاگردوں کو بھی اقتدار بخشا۔ اور آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ اب بھی حضرت مسیح زندہ کی قیوم قادر مطلق عالم الغیب دن رات آپ کے ساتھ ہے جو چاہو وہی دے سکتا ہے۔ پس آپ حضرت مسیح سے درخواست کریں کہ ان تینوں بیماروں کو آپ کے ہاتھ رکھنے سے اچھا کر دیویس تا نشانی ایمان داری کی آپ میں باقی رہ جاوے ورنہ یہ تو مناسب نہیں کہ ایک طرف اہل حق کے ساتھ بحیثیت سچے عیسائی ہونے کے مباحثہ کریں اور جب بچے عیسائی کے نشان مانگیں جائیں تب کہیں کہ ہم میں استطاعت نہیں اس بیان سے تو آپ اپنے پر ایک اقبالی ڈگری کراتے ہیں کہ آپ کا مذہب اس وقت زندہ مذہب نہیں ہے لیکن ہم جس طرح پر خدا تعالیٰ نے ہمارے بچے ایماندار ہونے کے نشان ٹھہرائے ہیں اس التزام سے نشان دکھلانے کو تیار ہیں اگر نشان نہ دکھلا سکیں تو جو سزا چاہیں دیدیں اور جس طرح کی چھری چاہیں ہمارے گلے میں میں پھیر دیں اور وہ طریق نشان نمائی کا جس کے لئے ہم مامور ہیں وہ یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے جو ہمار ا سچا اور قادر خدا ہے اس مقابلہ کے وقت جو ایک سچے اور کامل نبی کا انکار کیا جاتا ہے تضرع سے کوئی نشان مانگیں تو وہ اپنی مرضی سے نہ ہمارا محکوم اور تابع ہو کر جس طرح سے چاہے گانشان دکھلائے گا۔ آپ خوب سوچیں کہ حضرت مسیح با وجود آپ کے اس قدر غلو کے اقتداری نشانات کے دکھلانے کے عاجز رہے دیکھئے مرقس ب ۸ / ۱۲٫۱۱ آیت میں لکھا ہے ۔ تب فریسی نکلے اور اس سے حجت کر کے یعنی جس طرح اب اس وقت مجھ سے حجت کی گئی۔ اس کے امتحان کے لئے آسمان سے کوئی نشان چاہا۔ اس نے اپنے دل سے آہ کھینچ کر کہا کہ اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔ میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان نہ دیا ۱۹۸