مسیحی انفاس — Page 188
۱۸۸ اخلاق الہی کے مخالف تعلیم دی ؟ سے بدوں کے گناہ بخشے گئے۔ کیا حضرت مسیح نے حال ہے تو کیونکر ممکن تھا کہ حضرت مسیح ایسی تعلیم فرماتے جو اخلاق الہی کے مخالف ٹھہرتی ہے یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا یہی خلق ہے کہ جب تک سزا نہ دی جائے کوئی صورت رہائی کی نہیں تو پھر معافی کے لئے دوسروں کو کیوں نصیحت کرتا ہے۔ ماسوا اس کے جب ہم نظر غور سے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ نیکوں کی شفاعت سے بدوں کے گناہ ہمیشہ نیکوں کی شفاعت بخشے گئے ہیں دیکھو گفتی باب ۱۹ / ۱۱۴ ار -۱۴ - ایسنای گفتی ۱۳/ ۱۲ - استثنا ۱۹/ ۹ - خروج ۸/۸ ۱۲/۱۳ پھر ماسوا اس کے ہم پوچھتے ہیں کہ آپ نے جو گناہ کی تقسیم کی ہے وہ تین قسم معلوم ہوتی ہے۔ فطرتی ۔ حق الله - حق العباد ۔ تو پھر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ حق العباد کے تلف ہونے کا کیا سبب ہو سکتا ہے۔ اور نیز یہ بھی آپ کو دیکھنا چاہئے کہ فطرتی گناہ آپ کے اس قاعدہ کو توڑ رہا ہے۔ آپ کی توریت کے رو سے بہت سے مقامات ایسے ثابت ہوتے ہیں جس سے آپ کا مسئلہ رحم بلا مبادلہ باطل ٹھہرتا ہے۔ پھر اگر آپ توریت کو حق اور منجانب اللہ مانتے ہیں تو حضرت موسیٰ کی وہ شفاعتیں جن کے ذریعہ سے بہت مرتبہ بڑے بڑے گناہگاروں اروں کے گناہ بخشے گئے مکتی اور بیکار ٹھرتی ہیں۔ اور آپ کو معلوم رہے کہ قرآن شریف نے اس مسئلہ میں وہ انسب طریق اختیار کیا ہے جو کسی کا اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا یعنی حقوق دو قسم کے ٹھہرا دئے ہیں۔ ایک حق اللہ اور ایک حق العباد ۔ حق العباد میں یہ شرائط لازمی ٹھہرائی گئی ہے کہ جب تک مظلوم اپنے حق کو نہیں پاتا یا حق کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک وہ حق قائم رہتا ہے۔ اور حق اللہ میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جس طرح پر کسی نے شوخی اور بیباکی کر کے معصیت کا طریق اختیار کیا ہے۔ اسی طرح جب پھر وہ توبہ و استغفار کرتا ہے اور اپنے بچے خلوص کے ساتھ فرمانبرداروں کی جماعت میں داخل ہو جاتا ہے اور ہر ایک طور کا درد اور دکھ اٹھانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے گناہ کو اس کے اس اخلاص کی وجہ سے بخش دیتا ہے کہ جیسا کہ اس نے نفسانی لذات کے حاصل کرنے کے لئے گناہ کی طرف قدم اٹھایا تھا۔ اب ایسا ہی اس نے گناہ کے ترک کرنے میں طرح طرح کے دکھوں کو اپنے سر پر لے لیا ہے۔ پس یہ سایه صورت معاوضہ ہے جو اس نے اپنے پر اطاعت الہی میں دکھوں کو قبول کر لیا ہے اور اس کو ہم رحم بلا مبادلہ ہر گز نہیں کہہ سکتے۔ کیا انسان نے کچھ بھی کام نہیں کیا یوں ہی رحم ہو گیا۔ اس نے تو سچی توبہ سے ایک کامل قربانی کو ادا کر دیا ہے۔ اور ہر طرح کے دکھوں کو یہاں تک کہ مرنے کو بھی اپنے نفس پر گوارا کر لیا ہے۔ اور جو سزا کے طور پر اس کو ملنی