مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 632

مسیحی انفاس — Page 187

۱۸۷ قسم کی مظلومانہ موت سے دوسروں کے دل گناہ کی پلید خصلت سے کیونکر صاف اور پاک ہو سکتے ہیں۔ اور کیونکر ایک بے گناہ کے قتل ہونے سے دوسروں کو گذشتہ گناہوں کی ی معانی معافی کی کی سند مل مل سکتی ہے۔ بلکہ اس طریق میں انصاف اور رحم دونوں کا خون ہے انصاف اور رحم دونوں کیونکہ گنہگار کے عوض میں بے گناہ کو پکڑنا خلاف انصاف ہے اور نیز بیٹے کو اس طرح ناحق سخت دلی سے قتل کرنا خلاف رحم ہے۔ اور اس حرکت سے فائدہ خاک نہیں۔ اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ اصل سبب گناہ کے سیلاب کا قلت معرفت ہے۔ کا خون پس جب تک ایک علت موجود ہے تب تک معلول کی نفی کیونکر ہو سکتی ہے ہمیشہ علت کا جب تک علت موجود وجود معلول کے وجود کو چاہتا ہے۔ اب جائے حیرت ہے کہ یہ کیسا فلسفہ ہے کہ گناہ ہے تب تک معلول کی کرنے کی علت جو قلت معرفت باری تعالیٰ ہے وہ تو سر پر موجود کھڑی ہے مگر معلول اس منفی کیونکر ہو سکتی ہے کا جو ارتکاب گناہ کی حالت ہے وہ معدوم ہو گئی ہے۔ تجربہ ہزاروں گواہ پیش کرتا ہے کہ بجز معرفت کامل کے نہ کسی چیز کی محبت پیدا ہو سکتی ہے اور نہ کسی چیز کا خوف پیدا ہوتا ہے اور نہ اس کی قدر دانی ہوتی ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کسی فعل یا ترک فعل کو یا تو خوف کی وجہ سے کرتا ہے اور یا محبت کی وجہ سے ۔ اور خوف اور محبت دونوں معرفت سے پیدا ہوتی ہیں۔ پس جب معرفت نہیں تو نہ خوف ہے اور نہ محبت ہے۔ لیکچر لاہور روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۶۳، ۱۶۴ حضرت مسیح بھی گناہ بخشنے کے لئے وصیت فرماتے ہیں کہ تم اپنے گہنگار کی خطا بخشو۔ ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ جل شانہ کی صفات کے بر خلاف ہے کسی کا گناہ بخشا جائے تو انسان کو ایسی تعلیم کیوں ملتی ہے۔ بلکہ حضرت مسیح تو فرماتے ہیں کہ میں تجھے سات مرتبہ تک نہیں کہتا بلکہ ستر کے سات مرتبہ تک یعنی اس اندازہ تک کے گناہوں کو بخشا چلا جا۔ اب دیکھئے کہ جب انسان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ گویا تو بے انتہا مراتب تک اپنے گناہ گاروں کو بلا عوض بخشتا چلا جا۔ اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بلا عوض ہر گز نہ بخشوں گا۔ تو پھر یہ تعلیم کیسی ہوئی ۔ حضرت مسیح نے تو ایک جگہ فرما دیا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے اخلاق کے موافق اپنے اخلاق کرو۔ کیونکہ وہ بدوں اور نیکوں پر اپنا سورج چاند چڑہاتا ہے اور ہر ایک خطا کار اور بے خطا کو اپنی رحمتوں کی بارشوں سے متمتع کی تمتع کرتا ہے۔ پھر جب یہ ؟ ۱۵۶ رحم بلا مبادله