مسیحی انفاس — Page 189
۱۸۹ تھی وہ سزا اس نے آپ ہی اپنے نفس پر وارد کر لی ہے۔ تو پھر اس کو رحم بلا مبادلہ کہنا اگر سخت غلطی نہیں تو اور کیا ہے۔ مگر وہ رحم بلا مبادلہ جس کو ڈپٹی صاحب پیش کرتے ہیں کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کوئی پاویے ۔ ۔ حزبیل باب ۱۸ آیت ۱۔ پھر حز قیل ۲۰ / ۱۸ ۲۰/ پھر سموئیل ۲ ۳/ ۳ مکاشفات ۱۲ / ۲۲۰ ۲۰ حر قیل ۱۹ ۰۲۷ یہ تو ایک نہایت مکروہ ظلم کی قسم ہے۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ سوائے اس کے کیا خدا تعالیٰ کو یہ کیا خدا تعالی کو یہ طریق طریق معانی گناہوں کا صدہا برس سوچ سوچ کر پیچھے سے یاد آیا۔ ظاہر ہے کہ انتظام الہی معانی صدہا برس سوچ جو انسان کی فطرت سے متعلق ہے وہ پہلے ہی ہونا متعلق ہے وہ پہلے ہی ہونا چاہئے ۔ جب سے انسان دنیا میں آیا سوچ کر یاد آیا ؟ گناہ کی بنیاد اسی وقت سے پڑی۔ پھر یہ کیا ہو گیا کہ گناہ تو اسی وقت زہر پھیلانے لگا۔ مگر خدا تعالیٰ کو چار ہزار برس گزرنے کے بعد گناہ کا علاج یاد آیا۔ نہیں صاحب یہ سراسر بناوٹ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جیسے ابتدا سے انسان کی فطرت رت میں میں میں ایک کی ملکہ گناہ کرنے کا رکھا۔ ایسا ہی گناہ کا علاج بھی اسی طرز سے اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے جیسے کہ وہ خود فرماتا ہے۔ بالی من اسلم وجهه بله وهو محسن فله اجرة عند ربه ولا خوف عليهم ولاهم یزیون (باس) یعنی جوشخص اپنے تمام وجود کو خداتعالی کی راہ میں سونپ دیوے اور پھر اپنے تئیں نیک کاموں میں لگا دیوے تو اس کو ان کا اجر اللہ تعالیٰ سے ملے گا۔ اور ایسے لوگ بے خوف اور بے غم ہیں۔ اب دیکھئے کہ یہ قاعدہ کہ توبہ کر کے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور اپنی زندگی کو اس کی راہ میں وقف کر دینا یہ گناہ کے بخشے جانے کے لئے ایک ایسا صراط مستقیم ہے کہ کسی خاص زمانہ تک محدود نہیں۔ جب سے انسان اس مسافر خانہ میں آیا تب سے اس قانون کو اپنے ساتھ لایا ۔ جیسے اس کی فطرت میں ایک شق یہ موجود ہے کہ گناہ کی طرف رغبت کرتا ہے ایسا ہی یہ دوسرا شق بھی موجود ہے کہ گناہ سے نادم ہو کر اپنے اللہ کی راہ میں مرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ زہر بھی اس میں ہے اور تریاق بھی اسی میں ہے۔ یہ نہیں کہ زہر اندر سے نکلے اور تریاق جنگلوں سے تلاش کرتے پھریں۔ اور جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۹۷ تا ۲۰۰ آپ اپنے پہلے قول پر ضد کر کے فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کسی کی شفاعت سے گناہ ۱۵۷