مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 632

مسیحی انفاس — Page 178

۱۷۸ ۱۴۸ ہوئے۔ تھا۔ اگر گناہ نہ کرتا تب بھی مرتا۔ منہ تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷۔ صفحہ ۲۷۳ حاشیه در حاشیه حضرت آدم کی نسبت تو خدا خود فرماتا ہے لم نجد له عزما یعنی آدم نے یہ کام حضرت آدم کبھی ارادتا نہیں کیا۔ اب گناہ تو راہ پر منحصر ہے۔ اگر ایک شخص زہر پی لے اور اس کو علم ہو شرک میں جلائیں کہ یہ زہر ہے اور اس کا نتیجہ موت ہو گا تو ایسی صورت میں وہ ایک گناہ کا مرتکب ہوتا ہے لیکن اگر وہ اس کو بغیر علم کے پی لے تو اگر چہ اس کو نتیجہ بھگتنا پڑے گا مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس گناہ کیا ۔ یہی حال حضرت آدم علیہ السّلام کا ہے ہمیں بائبل سے معلوم ہوتا ہے کیا۔ کہ خوانے ان کو یہ پھل دیا تھا ان کو یہ علم نہ تھا کہ یہ وہی ممنوعہ پھل ہے۔ ان کا یہ کام بیشک خدا تعالیٰ کے حکم کے خلاف تھا مگر انہوں نے اس حکم کو عمدا نہیں توڑا اس لئے ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ انہوں نے گناہ کیا۔ اس پھل کے کھانے کا وہی نتیجہ نکلا جو زہر کھانے سے نکلتا ہے کیونکہ قدرت اپنا کام کرنے سے رک نہیں سکتی مگر اس صورت میں کوئی گناہ نہیں تھا کیونکہ کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ۱۲۹ شرک عورت سے شروع ہوا۔ حضرت آدم کبھی شرک کے مرتکب نہیں ہوئے۔ شرک ایک ناقابل عفو گناہ ہے اور خدا کے پاک لوگ ایسا گناہ نہیں کر سکتے جس آیت کا عیسائی حوالہ دیتے ہیں اس میں ور خدا کے پاک لوگ ایسا گناہ نہیں کر سکتے جس آب حضرت آدم کا نام نہیں ہے اس میں صرف عام انسانوں کے میلان کا ذکر ہے جو شرک کی طرف ان میں پایا جاتا ہے۔ ریویو آف ریلیجنز جلد ۲ نمبر ۶ صفحه ۲۵۰ تو شرک عورت سے شروع ہوا ہے اور عورت سے اسکی بنیاد پڑی ہے یعنی حوا سے نے خدا کا جس نے خدا تعالیٰ کا حکم چھوڑ کر شیطان کا حکم مانا۔ اور شرک عظیم یعنی عیسائی مذہب کی حامی بھی عورتیں ہی ہیں۔ در حقیقت عیسائی مذہب ایسا مذہب ہے کہ انسانی فطرت دور سے اس کو دھکے دیتی ہے اور وہ کبھی اس کو قبول ہی نہیں کر سکتی۔ ملفوظات جلد ۸ صفحه ۳۴۸ ) یسوع کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ موروثی اور کسی گناہ سے پاک ہے۔ حالانکہ