مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 632

مسیحی انفاس — Page 177

۱۷۷ دوسرے امر حیوانات کی موت ثابت ہوتی ہے اور اگر اس سے بھی درگزر کریں تو کیا ہم و سے بھی انکار کر سکتے ہیں کہ آدم بہشت میں ضرور پانی پیتا تھا کیونکہ کھٹن اور پینا ہمیشہ سے ایک دوسرے سے لازم پڑے ہوئے ہیں۔ اور طبعی تحقیقات سے ثابت ہے کہ ہرا ایک قطرہ میں کئی ہزار کیڑے ہوتے ہیں۔ پیس کچھ شک نہیں کہ آدم کے گناہ سے پہلے کروڑہا کے اور سے ہے ہرایا کیڑے مرتے تھے۔ پس اس سے بہر حال ماننا پڑتا ہے کہ موت گناہ کا پھل نہیں۔ اور یہ امر عیسائیوں کے اصول کو باطل کرتا ہے۔ كتاب البرية روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۴ ۱۲۷ یادر ہے کہ یہ خوا کا گناہ تھا کہ براہ راست شیطان کی بات کو مانا اور خدا کے حکم کو توڑا اور سچ تو یہ ہے کہ خوا کا نہ ایک گناہ بلکہ چار گناہ تھے۔ (۱) ایک یہ کہ خدا کے حکم کی بے حوا کے چار گناہ تھے۔ تو یہ کانہ عرقی کی اور اس کو جھوٹا سمجھ لیا۔ (۲) دوسرا یہ کہ خدا کے دشمن اور ا دشمن اور ابدی لعنت کے مستحق اور جھوٹ کے پہلے شیطان کو سچا سمجھ لیا۔ (۳) تیسرا یہ کہ اس نافرمانی کو صرف عقیدہ تک محدود نہ رکھا بلکہ خدا کے حکم کو توڑ کر عملی طور پر ارتکاب معصیت کیا۔ (۴) چوتھا یہ کہ حوانے نہ صرف آپ ہی خدا کا حکم توڑا بلکہ شیطان کا قائم مقام بن کر آدم کو یو بھی دھوکا دیا۔ تب آدم آدم نے نے محض حوا کی دھا دھوکا دہی سے وہ پھل کھایا جس کی ممانعت تھی اسی وجہ سے حوا خدا کے نزدیک سخت گنہگار ٹھہری مگر آدم معذور سمجھا گیا آدم معذور سمجھ گیا۔ محض ایک خفیف خطا جیسا کہ آیت ولم نجد له عزما سے ظاہر ہے یعنی اللہ تعالی اس آیت میں فرماتا ہے کہ آدم نے عمداً میرے حکم کو نہیں توڑا بلکہ اس کو یہ خیال گذرا کہ توانے جو یہ پھل کھایا اور مجھے دیا شائد اس کو خدا کی اجازت ہو گئی جو اس نے ایسا کیا۔ یہی خداتعالی نے اپنی کتاب میں کی بریت ظاہر وجہ ہے کہ خدا نے اپنی کتاب میں حوا کی بریت ظاہر نہیں فرمائی مگر آدم کی بریت ظاہر کی ہیں جوانی ہے یعنی اس کی نسبت لم نجد له عزما فرمایا اور حوا کو سخت سزادی۔ مرد کا محکوم بنایا اور اس کا دست نگر کر دیا اور حمل کی مصیبت اور بچے جنے کا دکھ اس کو لگا دیا اور آدم چونکہ جس شخص کی پیدائش خدا کی صورت پر بنایا گیا تھا اس لئے شیطان اس کے سامنے نہ آسکا۔ اسی جگہ سے یہ میں ان کا حصہ نہیں رہا بات نکلتی ہے کہ جس شخص کی پیدائش میں نر کا حصہ نہیں وہ کمزور ہے اور توریت کے رو کمزور ہے۔ سے اس کی نسبت کہنا مشکل نسبت کہنا مشکل ہے کہ وہ خدا کی صورت پر یا خداکی مانند پیدا کیا گیا۔ ہاں آدمی را بھی ضرور مر گیا۔ لیکن یہ موت گناہ سے پیدا نہیں بلکہ مرنا ابتدا سے انسانی بناوٹ کا خاصہ انسانی بناوٹ کا خاصہ ہے۔ بلکہ ابتداء سے