مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 632

مسیحی انفاس — Page 179

۱۷۹ گناہ سے پاک نہ تھا یہ صریح غلط ہے عیسائی خود مانتے ہیں کہ یسوع نے اپنا گوشت و پوست اپنی والدہ سے پایا تھا اور وہ گناہ سے پاک نہ تھی۔ اور نیز عیسائیوں کا یہ بھی اقرار ہے کہ ہر ایک درد اور دکھ ہوں موروئی اور کسی اور کایہ ہرا گناہ کا پھل ہے اور کچھ شک نہیں کہ یسوع بھو کا بھی ہوتا تھا اور پیا سابھی اور بچپن میں قدرت کے موافق خسرہ بھی اس کو نکلا ہو گا اور چیچک بھی اور دانتوں کے نکلنے کے حضرت مسیح رکھ ، درد قانون قدرت کے موافق خسرہ بھی اس میں مبتلا ہوئے۔ دکھ بھی اٹھائے ہوں گے اور موسموں کے تپوں میں بھی گرفتار ہوتا ہو گا اور بموجب ، اصول عیسائیوں کے یہ سب گناہ کے پھل ہیں۔ پھر کیونکر اس کو پاک فدیہ سمجھا گیا۔ علاوہ اس کے جب کہ روح القدس کا تعلق صرف اسی حالت میں بموجب اصول عیسائیوں کے ہو سکتا تھا کہ جب کوئی شخص ہر ایک طرح سے گناہ سے پاک ہو تو پھر یسوع جو بقول ان کے موروثی گناہ سے پاک نہیں تھا اور نہ گناہوں کے پھل سے بچ سکا اس ملک صدق سالم ہر سے کیونکر روح القدس نے تعلق کر لیا۔ بظاہر اس سے زیادہ ملک صدق سالم کا حق تھا طرح کے گناہ سے کیونکہ بقول عیسائیوں کے وہ ہر طرح کے گناہ سے پاک تھا۔ کتاب البریه روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۷، ۷۸ (ایڈیٹر کے اپنے الفاظ میں ) ہو پاک تھا۔ ۱۵۱ بھی ضروری ہے۔ تعجب ہے کہ عیسائی لوگ شفاعت کے لئے عصمت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ہاں نری عصمت شفاعت کا موجب نہیں ہو سکتی بلکہ شفاعت تب ہو سکتی ہے جبکہ شفیع معصوم ہو اور پھر وہ ابن اللہ ہو اور پھر صلیب پر لٹکایا جاکر ملعون ہو۔ جب تک یہ تثلیث عیسائی مذہب کے عقیدہ کے موافق قائم نہ ہو شفیع نہیں ہو سکتا۔ پھر وہ عصمت موافق شفاعت کے لئے عصمت ہی کیوں پکارتے ہیں کیا اگر کوئی معصوم ان کے سامنے پیش کیا جاوے یا ثابت صرف معصوم ہوتا ہی کر دیا جاوے تو وہ مان لیں گے کہ وہ شفیع ہے ؟ ہر گز نہیں بلکہ عیسائی عقیدہ کے موافق یہ ضروری نہیں بلکہ ابدیت ضروری ہے کہ وہ خدا بھی نہ ہو بلکہ ابن اللہ ہو اور وہ مصلوب ہو کر جب تک ملعون نہ ہوئے۔ ہر گز ہر گز وہ شفیع نہیں ہو سکتا۔ پھر ایک اور بات قابل غور ہے کہ جبکہ یسوع خود خدا تھا اور اس لئے علیہ العلل تھا اور اس نے کل جہان کے گناہ بھی اپنے ذمہ لئے پھر وہ معصوم کیونکر ہوا۔ اور گناہوں کا تذکرہ ہم چھوڑتے ہیں جو یہودی مورخوں اور فری تھنکروں ( آزاد خیال ) نے ان کی انجیل سے ثابت کئے ہیں لیکن جب اس نے خود گناہ اٹھالئے اور بوجہ علت العلل ہونے کے سارے گناہوں کا کرنے والا وہی ٹھرا۔ تو پھر اسے معصوم قرار دینا عجیب دانشمندی ہے پھر خدا کا نام معصوم نہیں کیونکہ معصوم وہ ہے