مسیحی انفاس — Page 148
۱۴۸ ۱۲۷ ( قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۴۴۷، ۴۴۸ ) اخیر عذر یسوع کے دکھ اٹھانے اور مصلوب ہونے کا یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ خدا کفارہ کے بارہ میں جامع ہو کر پھر اس لئے سولی پر کھینچا گیا کہ تا اس کی موت گناہگاروں کے لئے کفارہ ٹھہرے ۔ بیان۔ ہے۔ کا عقیدہ ہندووں لیکن یہ بات بھی عیسائیوں کی ہی ایجاد ہے کہ خدا بھی مرا کرتا ہے۔ گو مرنے کے بعد پھر یہ بات بھی عیسائیوں کی بھی اس کو زندہ کر کے عرش پر پہنچادیا۔ اور اس باطل و ہم میں آج تک گرفتار ہیں کہ پھر وہ عدالت کرنے کے لئے دنیا میں آئے گا اور جو جسم مرنے کے بعد اس کو دوبارہ ملا وہی جسم خدائی کی حیثیت میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا مگر عیسائیوں کا یہ مجسم خدا جس پر بقول ان کے ایک مرتبہ موت بھی آچکی ہے اور خون گوشت ہڈی اور اوپر نیچے کے سب اعضا رکھتا ہے۔ یہ ہندؤں کے ان او تاروں سے مشابہ ہے جن کو آج کل آر یہ لوگ بڑے جوش سے چھوڑتے جاتے ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ عیسائیوں کے خدا نے تو صرف ایک مرتبہ مریم بنت یعقوب کے پیٹ سے جنم لیا مگر ہندوں کے خدا بشن نے نو مرتبہ دنیا کے گناہ دور کرنے کے لئے تولد کا داغ اپنے لئے قبول کر لیا۔ خصوصا آٹھویں مرتبہ کا جنم لینے کا قصہ نہایت دلچسپ بیان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ جب زمین دمیستوں کی طاقت سے مغلوب ہو گئی۔ تو بشن نے آدھی رات کو کنواری لڑکی کے پیٹ سے پیدا ہو کر اوتار لیا۔ اور جو پاپ دنیا میں پھیلے ہوئے تھے۔ ان سے لوگوں کو چھڑایا۔ یہ قصہ اگرچہ عیسائیوں کے مذاق کے موافق ہے۔ مگر اس بات میں ہندوؤں نے بہت عقلمندی کی ۔ کہ عیسائیوں کی طرح اپنے اوتاروں کو سولی نہیں دیا اور نہ ان کے کو لعنتی ہونے کے قائل ہوئے۔ قرآن شریف کے بعض اشارات سے نہایت صفائی کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو خدا بنانے کے موجد پہلے آریہ ورت کے برہمن ہی ہیں روه اعتقاد میں ان دونوں کار ہیں اور پھر یہی خیالات یونانیوں نے ہندوؤں سے لئے۔ آخر اس مکروہ اعتقاد میں ! قوموں کے فضلہ خوار عیسائی ہے۔ اور ہندوؤں کو ایک اور بات دور کی سوجھی جو عیسائیوں کو نہیں سوجھی۔ اور وہ یہ کہ ہندو لوگ خدائے ازلی ابدی کے قدیم قانون میں یہ بات داخل رکھتے ہیں کہ جب کبھی دنیا گناہ سے بھر گئی تو آخران کے پر میشر کو یہی تدبیر خیال میں آئی کہ خود دنیا میں جنم لے کر لوگوں کو نجات دیوے ۔ اور ایسا واقعہ صرف ایک دفعہ نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ ضرورت کے وقتوں میں ہوتا رہا۔ لیکن گو عیسائیوں کا یہ تو عقیدہ ہے کہ