مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 632

مسیحی انفاس — Page 147

۱۴۷ ایک اور بڑی بھاری مصیبت قابل ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس خدا کے دائمی الله پیارے اور دائمی محبوب اور دائمی مقبول کی نسبت جس کا نام یسوع ہے یہودیوں نے تو اپنی شرارت اور بے ایمانی سے لعنت کے برے سے برے مفہوم کو جائز رکھا۔ لیکن اس خیال سے ہلا نے بدن کا پتا ہے ۔ عیسائیوں نے بھی اس بہتان میں کسی قدر شراکت اختیار کی۔ کیونکہ یہ گمان کیا گیا ہے کہ عیسائیوں سے گویا یسوع مسیح کا دل تین دن تک لعنت کے مفہوم کا مصداق بھی رہا ہے ۔ اس بات کے خیال سے ہمارا بدن کانپتا ہے ۔ اور وجود کے ذرہ ذرہ پر لرزہ پڑ جاتا ہے۔ کیا سچ کا پاک دل اور خدا کی لعنت !!! گو ایک سیکنڈ کے لئے ہی ہو۔ افسوس کا ہزار افسوس کہ یسوع مسیح جیسے خدا کے پیارے کی نسبت یہ اعتقاد رکھیں کہ کسی وقت اس کا دل لعنت کے مفہوم کا مصداق بھی ہو گیا تھا۔ " ९९ تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ ص (۲۷۴) بچی تو بہ در حقیقت ایک موت ہے جو انسان کے ناپاک جذبات پر آتی ہے اور ایک ۱۲۶ کچی توبہ توبہ اور کچی قربانی کچی قربانی ہے جو انسان اپنے پورے صدق سے حضرت احدیت میں ادا کرتا ہے اور تمام سے احدیت میں ہو کر ہے قربانیاں جو رسم کے طور پر ہوتی ہیں اسی کا نمونہ ہے۔ سو جو لوگ یہ بچی قربانی ادا کرتے کی ہیں جس کا نام دوسرے لفظوں میں تو بہ ہے درحقیقت وہ اپنی سفلی زندگی پر ایک موت وارد کرتے ہیں باقالی و کریم در خیم وارد کرتے ہیں تب خدا تعالیٰ جو کریم و رحیم ہے اس موت کے عوض میں دوسرے جہاں میں ان کو نجات کی زندگی بخشتا ہے کیونکہ اسکا کرم اور رحم اس بخل سے پاک ہے جو کسی انسان پر دو موتیں وارد کرے۔ سوانسان تو بہ کی موت سے ہمیشہ کی زندگی کو خریدتا ہے اور بہ کی سے ہم اس زندگی کے حاصل کرنے کے لئے کسی دوسرے کو پھانسی پر چڑھانے کے محتاج نہیں ہمارے لئے وہ صلیب کافی ہے جو اپنی قربانی دینے کی صلیب ہے "