مسیحی انفاس — Page 149
۱۴۹ خدا قدیم سے ہے مگر بیٹے کو سولی دینے کا خدا تعالیٰ قدیم ہے اور گذشتہ زمانہ کی طرف خواہ کیسے ہی اوپر سے اوپر چڑھتے جائیں اس خدا کے وجود کا کہیں ابتدا نہیں۔ اور قدیم سے وہ سے وہ خالق اور رب العالمین بھی ہے لیکن وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ وہ ہمیشہ سے اور غیر متناہی زمانوں سے اپنے پیارے بیٹوں کو لوگوں کے لئے سولی پر چڑھاتا رہا ہے۔ بلکہ کہتے ہیں کہ یہ تدبیر بھی اس کو کچھ تھوڑے عرصہ سے ہی سوجھی ہے۔ اور ابھی بڑھے باپ کو یہ خیال آیا ہے کہ بیٹے کو سولی دلا کر دوسروں کو عذاب سے بچاوے یہ تو ظاہر ہے کو اس بات کے ماننے سے کہ خدا قدیم اور خیال اسے اب آیا۔ ابد الآباد سے چلا آتا ہے یہ دوسری بات بھی ساتھ ہی ماننی پڑتی ہے کہ اس کی مخلوق بھی بحیثیت قدامت نوعی ہمیشہ سے ہی چلی آئی ہے۔ اور صفات قدیمہ کے تجلیات قدیمہ کی وجہ سے کبھی ایک عالم مکمن عدم میں مختفی ہوتا چلا آیا ہے اور کبھی دوسرا عالم بجائے اس کے ظاہر ہوتا رہا ہے۔ اور اس کا شمار کوئی بھی نہیں کر سکتا کہ کس قدر عالموں کو خدا نے اس دنیا سے اٹھا کر دوسرے عالم بجائے اس کے قائم کئے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ فرما کر ہم نے آدم سے پہلے جان کو پیدا کیا تھا اسی قدامت نوع عالم کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ لیکن عیسائیوں نے باوجود بدیہی ثبوت اس بات کے کہ قدامت نوع عالم ضروری ہے پھر اب تک کوئی ایسی فہرست پیش نہیں کی جس سے معلوم ہو کہ ان غیر محدود عالموں میں جو ایک دوسرے سے بالکل بے تعلق تھے کتنی مرتبہ خدا کا فرزند سولی پر کھینچا گیا کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ بموجب اصول عیسائی مذہب کے کوئی شخص بجز خدا کے فرزند کے گناہ سے خالی نہیں پس اس صورت میں تو یہ سوال ضروری ہے کہ وہ مخلوق جو ہمارے اس آدم سے بھی پہلے گزر چکی ہے جن کا ان بنی آدم کے سلسلہ سے کچھ تعلق نہیں۔ ان کے گناہ کی معافی کا کیا بندوبست ہوا تھا۔ اور کیا ہی بیٹا ان کو نجات دینے کے اس آدم سے پہلی لئے پہلے بھی کئی مرتبہ پھانسی مل چکا ہے یا وہ کوئی دوسرا بیٹا تھا جو پہلے زمانوں میں پہلی مخلوق حقوق کے منہ کی معافی کے لئے سولی چڑھتا رہا۔ جہاں تک ہم خیال کرتے ہیں نہیں تو یہ سمجھ آتا ہے کہ کا کیا بندو بست تھا۔ اگر صلیب کے بغیر اگر صلیب کے بغیر گناہوں کی معافی نہیں تو عیسائیوں کے خدا کے بے انتہا اور ان گنت بیٹے ہوں گے جو وقتافوقتا ان معرکوں میں کام آئے ہوں گے اور ہر ایک اپنے وقت پر پھانسی موہوں کی معانی ہیں تو ملا ہو گا۔ پس ایسے خدا سے کسی بہبودی کی امید رکھنا لا حاصل ہے جس کے خود اپنے ہی عیسائیوں کے خدا کے ان گنت بیٹے ہوں نوجوان بچے مرتے رہے۔ امرت سر کے سر کے مباحثہ میں بھی ہم نے یہ سوال کیا تھا کہ عیسائی یہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کا گے۔