مسیحی انفاس — Page 126
۱۲۶ جبکہ یہ تینوں شخص اور تینوں کامل اور تینوں میں ارادہ کرنے کی صفت موجود ہے۔ اب ارادہ کرنے والا ابن ارادہ کرنے والا روح القدس ارادہ کرنے والا۔ تو پھر ہمیں سمجھاؤ کہ باوجود اس حقیقی تفریق کے اتحاد ماہیت کیونکر اور نظیر بے حدبی اور بے و حتی ترین نظیری کی اس مقام سے کچھ تعلق نہیں رکھتی کیونکہ وہاں حقیقی تفریق قرار نہیں دی کی گئی۔ اتحاد ماہیت کیونکر۔ ١٧٠١ جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۸ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کی روح مخلوق تھی اور جسم بھی مخلوق تھا اور خدا تعالیٰ اس کی اس کی روح اور اس کا طرح ان سے تعلق رکھتا تھا جیسا کہ وہ ہر جگہ سے رکھتاتھا کہ وہ ہرجگہ موجود ہے یہ فرمانا ڈ پٹی صاحب کا مجھے سمجھ جس مخلوق ہیں؟ نہیں آتا جبکہ حضرت مسیح ترے انسان ہی تھے اور ان میں کچھ بھی نہیں تھا تو پھر خدا تعالیٰ کا تعلق اور خدا تعالیٰ کا موجود ہونا ہر ایک جگہ پایا جاتا ہے۔ پھر باوجود اس کے آپ اس بات پر یاسی منظر اللہ ہیں؟ زور دیتے ہیں کہ حضرت مسیح مظہر اللہ ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ یہ مظہر کہ یہ مظہر اللہ کیسے کی نظر اللہ نزول روح ہوئے۔ اس سے تو لازم آیا کہ ہر ایک چیز مظہر اللہ ہے۔ پھر میرا یہ سوال ہے کہ کیا یہ تی سے عمل ھے یا مظہ اللہ ہو ا و القدس کے نازل ہونے سے پہلے ہوا یا روح القدس کے پیچھے ہوا۔ اگر القدس بعد میں ہوئے ؟ پیچھے ہوا تو پھر آپ کی کیا خصوصیت رہی۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ہم یہ نہیں مانتے کہ خدا تعالٰی کی ذات ہے لہذا اس میں وزن کیونکر ہو۔ میرا جواب ہے کہ بیٹا یعنی حضرت عیسی کا روح کا اقوم مجسم ہونا ثابت ہے کیونکہ لگتا ہے کہ کلام ختم ہوا اور روح القدس بھی مجسم تھا نوم - کم ہونا کیونکہ لکھا ہے کہ کبوتر کی شکل میں اترا۔ اور آپ کا خدا بھی مجسم ہے کیونکہ یعقوب کشتی کری اور دیکھا بھی گیا اور بیٹا اس کے دینے ہاتھ جا بیٹھا۔ سے پھر آپ اپنی کثرت فی الوحدت کا ذکر کرتے ہیں مگر مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کثرت حقیقی اور وحدت حقیقی کیونکر ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں اور ایک کو اعتباری ٹھہرانا آپ کا مذہب نہیں۔ اس جگہ میں یہ بھی پوچھتا ہوں کہ حضرت مسیح جو مظہر اللہ ٹھہرائے گئے و گئے وہ ابتداء اتفاقی ؟ سے اخیر وقت تک مظہر اللہ تھے اور دائمی طور پر ان میں مظہریت پائی جاتی تھی یا اتفاقی اور کبھی کبھی۔ اگر دائمی تھی تو پھر آپ کو ثابت کرنا پڑے گا کہ حضرت مسیح کا عالم الغیب ہونا اور مظہریت دائمی تھی یا قادر وغیرہ کی صفات ان میں پائے جاتا یہ دائمی طور پر تھا حالانکہ انجیل شریف اس کی مکذب ہے۔ مجھے بار بار بیان کرنے کی حاجت نہیں۔