مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 632

مسیحی انفاس — Page 127

۱۲۷ اس جگہ یہ بھی مجھے پوچھنا پڑا کہ جس حالت میں بقول آپ کے حضرت مسیح میں دو روحیں نہیں صرف ایک روح ہے جو انسان کی روح ہے جس میں الوہیت کی ذرہ بھی آمیزش نہیں۔ اپنی ماہیت میں ہاں جیسے خدا تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اور جیسے کہ لکھتا ہے کہ یوسف میں اس کی روح تھی۔ حضرت مسیح کے ساتھ بھی موجود ہے تو پھر حضرت مسیح اپنی ماہیت ذاتی کے لحاظ سے خدا تعالی میں کے ساتھ کیونکر دوسرے اقنوم ٹھہرے۔ اور یہ بھی دریافت طلب ہے کہ حضرت مسیح کا آپ بھی موجود ہے یہ ایسی صاحبوں کی نظر میں دوسرا اقنوم ہونا یہ دوری ہے یا دائمی ۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ وہ یعنی دوسرے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم انتقام نہ لو۔ میں تعجب کرتا ہوں کہ انتقامی شریعت یعنی توریت تو ہوئے۔ خود آپ کی مسلمات میں سے ہے پھر کیونکر آپ انتقام سے گریز کرتے ہیں اور اس بات کا مجھے ابھی تک آپ کے منہ سے جواب نہیں ملا کہ جس حالت میں تین اقنوم صفاتِ کاملہ القنوم میں برابر درجہ کے ہیں تو ایک کامل اقنوم کے موجود ہونے کے ساتھ جو جمع صفات کاملہ کیا ہے صفات کاملہ پر محیط پر محیط ہے اور کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں کیوں دوسرے اقنوموں کی ضرورت ہے۔ اور کے ہوتے ہوئے پھر ان کاملوں کے ملنے کے بعد یا ملنے کے لحاظ سے جو اجتماعی حالت کا ایک ضروری نتیجہ دوسرے اقنوموں کی کیا ہونا چاہئے وہ کیوں اس جگہ پیدا نہیں ہوا۔ یعنی یہ کیا سبب ہے کہ باوجودیکہ ہر ایک اقنوم ضرورت ہے ؟ تمام کمالات مطلوبہ الوہیت کا جامع تھا پھر ان تینوں جامعوں کے اکٹھا ہونے سے الوہیت بت کا جامع تھا پھران تینوں جامنوں میں کوئی زیادہ قوت اور طاقت نہ بڑھی۔ اگر کوئی بڑھی ہے اور مثلاً پہلے تینوں اقوموں کے جمع ہونے سے طاقت میں کامل تھی پھر ملنے سے یا ملنے کے لحاظ سے اکمل کہلائے یا مثلاً پہلے قادر تھی اضافہ نہ ہوا۔ اور پھر ملنے کے لحاظ سے اقدر نام رکھا گیا۔ یا پہلے خالق تھی اور پھر ملنے کے لحاظ سے خلاق یا اخلق کہا گیا۔ تو براہ مہربانی اس کا ثبوت دینا چاہئے۔ نہ آپ دعوی انجیل کے الفاظ سے پیش کرتے ہیں اور نہ دلائل معقولی انجیل کے رو سے بیان فرماتے ہیں۔ جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۱۰ تا ۲۱۲ پھر ڈپٹی صاحب فرماتے ہیں کہ ” بے حدی سے خالی ہونا تو کسی کا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ مسیح اس سے خالی رہے یعنی روح القدس کے نزول سے پہلے بھی مظہر اللہ ہی تھا کیونکہ عام معنوں سے تو تمام مخلوقات مظہر اللہ ہے " ۔ جواب میں کہتا ہوں کہ آپ کا اب بھی وہی اقرار ہے کہ خاص طور پر مسیح مظہر اللہ نزول روح القدس کے بعد ہوئے اور ९९ ۱۰۹