مسیحی انفاس — Page 125
۱۲۵ القاب سے کچھ تعلق نہیں۔ اور انسان ہو یا حیوان ہو وہ باعتبار اپنی روح کے انسان یا حیوان کہلاتا ہے اور جسم ہر وقت معرض تحتمل میں ہے تو اس صورت میں اگر حضرات عیسائی صاحبان کا یہی عقیدہ ہے کہ مسیح در حقیقت خدا تعالیٰ ہے۔ تو مظہر اللہ کہنے کی کیا اگر میں خدا ہے تو اسے ضرورت ہے۔ کیا ہم انسان کو مظہر انسان کہا کرتے ہیں۔ ایسا ہی اگر حضرت مسیح کی روح مظفر اللہ کہنے کی کیا انسانی روح کی سی نہیں ہے اور انہوں نے مریم صدیقہ کے رحم میں اس طریق اور قانون قدرت سے روح حاصل نہیں کی جس طرح انسان حاصل کرتے ہیں۔ اور جو طریق طبابت اور ڈاکٹری کے ذریعہ سے مشاہدہ میں آچکا ہے۔ تو اول تو یہ ثبوت دینا چاہئے کہ ان کے جنین کا نشود نما پانا کسی نرالے طریق سے تھا اور پھر بعد اس کے اس عقیدہ کو چھپ پاناسی چھپ کر خوف زدہ لوگوں کی طرح اور پیرایوں اور رنگوں میں کیوں ظاہر کریں۔ بلکہ صاف کہہ دینا چاہئے کہ ہمارا خدا مسیح ہے اور کوئی دوسرا خدا نہیں ہے۔ جس حالت میں خدا اپنی صفات کاملہ میں تقسیم نہیں ہو سکتا اور اگر اس کی صفات تامیہ اور کاملہ میں سے ایک صفت بھی باقی رہ جائے تب تک خدا کا لفظ اس پر اطلاق نہیں کر سکتے۔ تو اس صورت میں میری سمجھ میں نہیں آسکتا کہ تین کیونکر ہو گئے۔ جب آپ صاحبوں نے اس بات کو خود مان لی اور تسلیم کر لیا ہے کہ خداتعالیٰ کے لئے ضروری ہے خدا اور ضرورت ہے ؟ کہ وہ مستجمع جمیع صفات کاملہ ہو تو اب یہ تقسیم جو کی گئی ہے کہ ابن الله کامل خدا۔ باپ کامل خدا۔ اور روح القدس کامل خدا اس کے کیا معنی ہیں اور کیا وجہ ہے کہ یہ تین ناموں کی تفریق چاہتی ہے کہ کسی صفت کی نام رکھتے جاتے ہیں۔ کیونکہ تفریق ناموں کی اس بات کو چاہتی ہے کہ کسی صفت کی کمی و کی بیٹی ہو۔ بیتی ہو۔ مگر جبکہ آپ مان چکے کہ کسی صفت کی کمی و بیشی نہیں تو پھر وہ تینوں اقنوم میں مابہ الامتیاز کون ہے جو ابھی تک آپ لوگوں نے ظاہر نہیں فرمایا۔ جس امر کو آپ مالیہ الامتیاز قرار نے دیں گے وہ بھی منجملہ صفاتِ کاملہ کے ایک صفت ہو گی جو اس ذات میں پائی جانی چاہئے جو خدا کہلاتا ہے۔ اب جبکہ اس ذات میں پائی گئی جو خدا قرار دیا گیا تو پھر اس کے مقابل پر کوئی اور نام تجویز کرنا یعنی ابن اللہ کہنا یا روح القدس کہنا بالکل لغو اور بیہودہ ہو خدا وہ ذات ہے جو مستجمع جمیع صفاتِ کاملہ ہے اور غیر کا محتاج جائیگا۔ نہیں اور اپنے کمال میں دوسرے کا محتاج نہیں۔ جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۰۵ تا ۱۰۶