مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 632

مسیحی انفاس — Page 109

۱۰۹ والے اپنے افتراء اور اختراع میں ان سے اچھے رہے۔ کیونکہ انہوں نے بدھ کو خدا ٹھہرا بدھ مت والے اپنے کر پھر ہر کہ پھر ہر گز اس کے لئے یہ تجویز کے لئے کر لیں۔ کے یہ تجویز نہیں کیا کہ اس نے پلیدی اور ناپاکی کی راہ سے تولد پایا افتراء اور اختراع میں تھا۔ یاکسی قسم کی نجاست کھائی تھی۔ بلکہ ان کا بدھ کی نسبت یہ اعتقاد ہے کہ وہ منہ سنتے س نے پلیدی اور ناپاکی کی را راستہ سے پیدا ہوا تھا۔ پرا را ہوا تھا۔ پر افسوس کہ عیسائیوں نے بہت سی جعلسازیاں تو تو کیں مگر یہ جعلسازی نہ سوجھی کہ مسیح کو بھی منہ کے راستہ سے پیدا کرتے اور اپنے خدا کو پیشاب اور پلیدی سے بچاتے۔ اور نہ یہ سوجھی کہ موت جو حقیقت الوہیت سے بکلی منافی ہے اس پر وارد نہ کرتے۔ اور نہ یہ خیال آیا کہ جہاں مریم کے بیٹے نے انجیلوں میں اقرار کیا ہے کہ قادر میں نہ نیک ہوں اور نہ دانا مطلق ہوں نہ خود بخود آیا ہوں نہ عالم الغیب ہوں نہ ہوں نہ دعا کی قبولیت میرے ہاتھ میں ہے۔ میں صرف ایک عاجز بندہ اور مسکین آدم زاد میں ہے۔ ہوں کہ جو ایک مالک رب العالمین کا بھیجا ہوا آیا ہوں ۔ ان سب مقاموں کو انجیل سے نکال دینا چاہئے ۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو عظیم الشان صداقت الحمد للہ کے مضمون کلام ہے کہ میں ہے۔ وہ بجز پاک اور مقدس مذہب اسلام کے کسی دوسرے مذہب میں ہر گز پائی نہیں جاتی۔ براہین احمدیہ ۔ روحانی خزائن جلدا صفحه ۴۴۲، ۴۴۳ ۔ بقیہ حاشیه ۱۱ انجیل میں غور کرنے سے صریح اور صاف طور سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سے کہ نے جابجا اپنی کمزوریوں کا اعتراف کیا اور استغفار بھی کیا۔ اچھا بھلا ایلی ایلی لما با ۹۵ ابی ابی کر کے کیوں نہ سبقتانی سے کیا مطلب؟ ابی ابی کر کے کیوں نہ پکارا ؟ عبرانی میں پران؟ ایل خدا کو کہتے ہیں۔ اس کے یہی معنے ہیں کہ رحم کر اور فضل کر اور مجھے ایسی بے سرو سامانی میں نہ چھوڑ (یعنی میری حفاظت کر ) ملفوظات ۔ جلد ۱۰ صفحه ۳۳۸ اب ہم نہایت افسوس سے لکھتے ہیں کہ ایک نا سمجھ انگریز عیسائی نے اپنی ایک کتاب १५ میں لکھا ہے کہ اسلام پر عیسائی مذہب کو یہ فضیلت ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ کا نام باپ بھی آیا ہے اور یہ نام نہایت پیار اور دلکش ہے اور قرآن میں یہ نام نہیں آیا۔ مگر ہمیں تعجب حقیقت اور معترض نے اس تحریر کے وقت پر یہ خیال نہیں کیا کہ لغت نے کہاں تک اس لفظ " اب " کی