مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 632

مسیحی انفاس — Page 110

۱۱۰ لفظ کی عزت و عظمت ظاہر کی ہے کیونکہ ہر یک لفظ کو حقیقی عزت اور بزرگی لغت سے ہی ملتی ہے اور کسی انسان کو یہ اختیار نہیں کہ اپنی طرف سے کسی لفظ کو وہ عزت رہے جو لغت اس کو دے نہیں سکے اسی وجہ سے خدا تعالیٰ کا کلام بھی لغت کے التزام سے باہر نہیں جاتا اور تمام اہل عقل اور نقل کے اتفاق سے کسی لفظ کی عزت اور عظمت ظاہر کرنے کے وقت اول لغت کی طرف رجوع کرنا چاہئے کہ اس زبان نے جس زبان کا وہ لفظ ہے یہ خلوت کہاں تک اس کو عطا کی ہے۔ اب اس قاعدہ کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر جب سوچیں کہ اب یعنی باپ کا لفظ لغت کی رو سے کسی پایہ کا لفظ ہے تو بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ جب مثلاً ایک انسان فی الحقیقت دوسرے انسان کے نطفہ سے پیدا ہو مگر پیدا کرنے میں اس نطفہ انداز انسان کا کچھ بھی دخل نہ ہو تب اس حالت میں کہیں گے کہ یہ انسان فلاں انسان کا اب یعنی باپ ہے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خدائے قادرِ مطلق کی یہ تعریف کرنی منظور ہو جو مخلوق کو اپنے خاص ارادہ سے پیدا کرنے والا خود کمالات تک پہنچانے والا اور خود رحم عظیم سے مناسب حال اس کے انعام کرنے والا اور خود حافظ اور قیوم ہے تو لغت ہر گز اجازت نہیں دیتی کہ اس مفہوم کو اب یعنی باپ کے لفظ سے ادا کیا جائے بلکہ لغت نے اس کے لئے ایک دوسرا لفظ رکھا ہے جس کو رب کہتے ہیں جس کی ہے۔ اصل تعریف ابھی ہم لغت کی رو سے بیان کر چکے ہیں۔ اور اور ہم ہم ہر ہر گز گز مجاز نہیں که کہا اینی طرف سے لغت تراشیں بلکہ ہمیں انہیں الفاظ کی پیروی لازم ہے جو قدیم سے خدا کی طرف سے چلے آئے ہیں۔ پس اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اب یعنی باپ کا لفظ خدا تعالیٰ کی خدا تعالی کو باپ کہنا اد اور ہجو میں داخل جویی او را نسبت استعمال کرنا ایک سوء ادب اور ہجو میں داخل ہے اور ؟ داخل ہے اور جن لوگوں نے حضرت مانے مسیح کی نسبت یہ الزام گھڑا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو اب کر کے پکارتے تھے اور در حقیقت جناب الہی کو اپنا باپ ہی یقین رکھتے تھے انہوں نے نہایت مکروہ اور جھوٹا الزام ابن مریم پر لگایا ہے کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح ایسی نادانی کے مرتکب ہوئے کہ جو لفظ اپنے لغوی معنوں کی رو سے ایسا حقیر اور ذلیل ہو جس میں ناطاقتی اور کمزوری اور بے اختیاری ہر ایک پہلو سے پائی جائے وہی لفظ حضرت مسیح اللہ جل شانہ کی نسبت اختیار کریں ابن مریم علیہ السّلام کو یہ ہر گز اختیار نہیں تھا کہ اپنی طرف سے لغت تراشی کریں اور لغت تراشی بھی ایسی بیہودہ جس سے سراسر جہالت ثابت ہو۔ پس جس حالت میں لغت نے اب یعنی باپ کے لفظ کو اس سے زیادہ وسعت نہیں دی کہ کسی نر کا نطفہ مادہ