فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 611

فقہ المسیح — Page 96

فقه المسيح 96 متفرق مسائل نماز واحد کے صیغہ میں بھی جیسے رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَيَّ (نوح : 29) اور جمع کے صیغہ میں بھی جیسے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة 202) اور اکثر اوقات واحد متکلم سے جمع متکلم مراد ہوتی ہے جیسے اس ہماری الہامی دعا میں فَاحْفَظْنِی سے یہی مراد نہیں ہے کہ میرے نفس کی حفاظت کر بلکہ نفس کے متعلقات اور جو کچھ لوازمات ہیں سب ہی آجاتے ہیں جیسے گھر بار ، خویش واقارب، اعضاء اور قوی وغیرہ ۔ حالات کے مطابق دعا کے الفاظ میں تبدیلی )69 البدر 26 دسمبر 1902ء صفحہ( میر ناصر نواب صاحب نے حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ دعا رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُک والی جو الہام ہوئی ہے اگر اس میں بجائے واحد متکلم کے جمع متکلم کا صیغہ پڑھ کر دوسروں کو بھی ساتھ ملا لیا جائے تو حرج تو نہیں؟ حضرت اقدس نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے۔ قرآنی دعاؤں میں تبدیلی مناسب نہیں 66 )58( البدر 19 دسمبر 1902ء صفحہ ایک دوست کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ میں ایک مسجد میں امام ہوں بعض دعا ئیں جو صیغہ واحد متکلم میں ہوتی ہیں یعنی انسان کے اپنے واسطے ہی ہو سکتی ہیں میں چاہتا ہوں کہ ان کو صیغہ جمع میں پڑھ کر مقتدیوں کو بھی اپنی دعا میں شامل کر لیا کروں اس میں کیا حکم ہے؟ فرمایا: جو دعائیں قرآن شریف میں ہیں ان میں کوئی تغیر جائز نہیں کیوں کہ وہ کلام الہی ہے وہ