فقہ المسیح — Page 95
فقه المسيح 95 متفرق مسائل نماز کہ سجدہ بے شک تذلیل کا مقام ہے مگر قرآن کریم کی چیزیں، اس کی دعائیں سجدہ کی حالت میں نہیں پڑھنی چاہئیں۔ دعا انسان کو نیچے کی طرف لے جاتی ہے اور قرآن انسان کو اوپر کی طرف لے جاتا ہے۔ اس لئے قرآنی دعاؤں کا سجدہ کی حالت میں مانگنا نا جائز ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بات مل گئی تو پھر اس کے خلاف طریق اختیار کرنا درست نہیں گو وہ ہماری عقل میں نہ ہی آئے۔ الفضل 16 را پریل 1944 صفحہ 1-2) الہامی کلمات نماز میں بطور دعا پڑھنا آج جو مجھے خواب میں الہام سے کلمات بتلائے گئے ہیں ( مراد ہے رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي - ناقل ) میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان کو نماز میں دعا کے طور پر پڑھا جاوے اور میں نے خود تو پڑھنے شروع کر دیئے ہیں ۔ البدر 12 دسمبر 1902 ء صفحہ 54 کالم (3) الہامی دعا ئیں واحد متکلم کے صیغہ کو بصورت جمع پڑھنا حضرت مولانا عبدالکریم صاحب نے ایک شخص کا خط پیش کیا جس میں سوال تھا کہ دعا الهاميه رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرُنِي وَارْحَمْنِي کو صیغہ جمع متکلم میں پڑھ لیا جاوے یا نہ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ:۔ اصل میں الفاظ تو الہام کے یہی ہیں (یعنی واحد متکلم میں ہیں ۔ ) اب خواہ کوئی کسی طرح پڑھ لیوے ۔ قرآن مجید میں دونوں طرح دعا ئیں سکھائی گئی ہیں ۔