فقہ المسیح — Page 97
فقه المسيح 97 متفرق مسائل نماز جس طرح قرآن شریف میں ہے اسی طرح پڑھنا چاہیے ۔ ہاں حدیث میں جو دعا ئیں آئی ہیں۔ ان کے متعلق اختیار ہے کہ صیغہ واحد کی بجائے صیغہ جمع پڑھ لیا کریں۔ دعا میں رفت پیدا کرنے والے الفاظ کا استعمال دعا کے متعلق ذکر تھا ، فرمایا : ( بدر 4 اپریل 1907 ءصفحہ 6) دعا کے لئے رقت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں ۔ یہ مناسب نہیں کہ انسان مسنون دعاؤں کے ایسا پیچھے پڑے کہ اُن کو جنتر منتر کی طرح پڑھتا ر ہے اور حقیقت کو نہ پہچانے ۔ اتباع سنت ضروری ہے ، مگر تلاش رقت بھی اتباع سنت ہے۔ اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو، دعا کرو۔ تا کہ دعا میں جوش پیدا ہو ۔ الفاظ پرست مخذول ہوتا ہے ۔ حقیقت پرست بننا چاہئے ۔ مسنون دعاؤں کو بھی برکت کے لئے پڑھنا چاہئے ۔ مگر حقیقت کو پاؤ۔ ہاں جس کو زبان عربی سے موافقت اور فہم ہو وہ عربی میں پڑھے۔ )9 الحكم 10 ستمبر 1901ء صفحہ( وتر کیسے پڑھے جائیں ایک صاحب نے سوال کیا کہ وتر کس طرح پڑھنے چاہئیں ۔ اکیلا بھی جائز ہے یا نہیں ؟ فرمایا:۔ اکیلا وتر تو ہم نے کہیں نہیں دیکھا ۔ وتر تین ہیں خواہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر کر تیسری رکعت پڑھ لو۔ خواہ تینوں ایک ہی سلام سے درمیان میں التحیات بیٹھ کر پڑھ لو ۔ ایک وتر ٹھیک نہیں ۔ الحکم 10 را پریل 1903ء صفحہ 14 )