درثمین مع فرہنگ — Page 76
آریوں کو دعوت حق اسے آریہ سماج پھنسومت عذاب میں کیوں مبتلا ہو یا رو خیال خراب میں اسے قوم آریہ ترے دل کو یہ کیا ہوا تو جاگتی ہے یا تری باتیں ہیں خواب میں کیا وہ خدا جو ہے تری جان کا خدا نہیں ایماں کی بو نہیں ترے ایسے جواب میں گر عاشقوں کی روح نہیں اُس کے ہاتھ سے پھر غیر کے لئے ہیں وہ کیوں اضطراب میں گر وہ الگ ہے ایسا کہ چھو بھی نہیں گیا پھر کس نے لکھ دیا ہے وہ دل کی کتاب میں جس سوز میں ہیں اُس کے لیے عاشقوں کے دل اتنا تو ہم نے سوز نہ دیکھا کباب میں جام وصال دیتا ہے اس کو جو مر چکا کچھ بھی نہیں ہے فرق یہاں شیخ و شاب میں ہلتا ہے وہ اُسی کو جو وہ خاک میں ملا ظاہر کی قبیل و قال بھلا کیس حساب میں ہوتا ہے وہ اُسی کا جو اس کا ہی ہو گیا ہے اس کی گود میں جو گرا اس جناب میں پھولوں کو جاکے دیکھو اسی سے وہ آب ہے چھکے اُسی کا نور ملی و آفتاب میں خوابوں کے حسن میں بھی اُسی کا وہ نور ہے کیا چیز حسن ہے وہی چھکا حجاب میں ل اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ " خُدا ہے نور زمین و آسمان کا “ (النور : ۳۶) 76