درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 74

جوش صداقت کیوں نہیں لوگو تمھیں حق کا خیال دل میں آتا ہے مرے سو سو اُبال آنکھ تو ہے دل میں میرے درد ہے کیوں دلوں پر اس قدر یہ گرد ہے دل ہوا جاتا ہے ہر دم بے قرار کیس بیاباں میں نکالوں یہ غبار ہو گئے ہم درد سے زیر و ترکیب مر گئے ہم پر نہیں تم کو خبر آسمان پر غافلو راک بوش ہے کچھ تو دیکھو کر تمھیں کچھ ہوش ہے ہو گیا دیں کُفر کے حملوں سے چور چُپ رہے کب تک خدا وند غیور اس صدی کا بیسواں اب سال ہے شرک و بدعت سے جہاں پامال ہے بد گماں کیوں ہو خُدا کچھ یاد ہے افترا کی کب تلک بنیاد ہے وہ خدا میرا جو ہے جو ہر شناس راک جہاں کو لا رہا ہے میرے پاس لعنتی ہوتا ہے مرد مُفتری لعنتی کو کب ملے یہ سروری اعجاز احمدی صفحه ۳۲ مطبوعہ ۱۹۰۲ / روحانی خزائن جلد ۱ ص ۱۳۲) 74