درثمین مع فرہنگ — Page 72
اے غافلو ! یہ باتیں سرا سر دروغ ہیں بہتاں ہیں بے ثبوت ہیں اور بے فروغ ہیں یارو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آچکا یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا اب سال سترہ بھی صدی سے گذر گئے صدی سے گذر گئے تم میں سے ہائے سوچنے والے کدھر گئے تھوڑے نہیں نشاں جو دکھائے گئے تمھیں کیا پاک راز تھے جو بتائے گئے تمھیں پر تم نے اُن سے کچھ بھی اُٹھایا نہ فائدہ منہ پھیر کر ہٹا دیا تم نے یہ مائده خلوں سے یارو باز بھی آؤ گے یا نہیں تو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں اب عذر کیا ہے کچھ بھی بتاؤ گے یا نہیں مخفی جو دل میں ہے وہ سناؤ گے یا نہیں آخر خُدا کے پاس بھی جاؤ گے یا نہیں اُس وقت اُس کو منہ بھی دکھاؤ گے یا نہیں تم میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے اُستوار لوگوں کو یہ بتائے کہ وقت پیچ ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے ہم اپنا فرض دوستو اب کر چکے ادا اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھاتے گا گا خدا (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۳، مطبوع / روحانی خزائن جلد اصت) 72