درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 71

تم مر گئے تمھاری وہ عظمت نہیں رہی صورت بگڑ گئی ہے وہ صورت نہیں رہی اب تم میں کیوں وہ کیف کی طاقت نہیں رہی بھید اس میں ہے یہی کہ وہ حاجت نہیں رہی اب کوئی تم پہ جبر نہیں غیر قوم سے کرتی نہیں ہے منع صلوۃ اور قوم سے ہاں آپ تم نے چھوڑ دیا دیں کی راہ کو عادت میں اپنی کر لیا فسق و گناہ کو اب زندگی تمہاری تو سب فاسقانہ ہے مومن نہیں ہو تم کہ قدم کافرانہ ہے اسے قوم اتم پر یار کی اب وہ نظر نہیں روتے رہو دعاؤں میں بھی وہ اثر نہیں کیونکر ہو وہ نظر کہ تمھارے وہ دل نہیں شیطاں کے ہیں خدا کے پیارے وہ دل نہیں تقوی کے جامے جتنے تھے سب چاک ہو گئے جتنے خیال دل میں تھے ناپاک ہو گئے کچھ کچھ جو نیک مرد تھے وہ خاک ہو گئے باقی جو تھے وہ ظالم و سفاک ہو گئے اب تم تو خود ہی مورد خشم خدا ہوئے اُس یار سے کامت عصیاں جُدا ہوئے اب غیروں سے لڑائی کے معنے ہی کیا ہوئے تم خود ہی غیر بن کے محل سزا ہوئے سچ سچ کہو کہ تم میں امانت ہے اب کہاں وہ صدق اور وہ دین و دیانت ہے اب کہاں پھر جب کہ تم میں خود ہی وہ ایمان نہیں رہا وہ نور مومنانہ وہ عرفاں نہیں رہا پھر اپنے گھر کی خبر اسے قوم لیجئے آیت عَلَيْكُمُ انْفُسَكُمْ یاد کیجئے ایسا گماں کہ مہدی خونی بھی آئے گا اور کافروں کے قتل سے دیں کو بڑھائے گا 71