درثمین مع فرہنگ — Page 70
القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں کر دے گا ختم آئے وہ دیں کی لڑائیاں ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں اب تم میں خود وہ قوت و طاقت نہیں رہی وہ سلطنت وہ رغب وہ شوکت نہیں رہی وہ نام وہ نمود وہ دولت نہیں رہی وہ عزم مقبلانہ وہ ہمت نہیں رہی وہ علم وہ صلاح وہ عفت نہیں رہی وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی وه درد وہ گداز وہ رقت نہیں رہی خلق خدا پر شفقت و رحمت نہیں رہی دل میں تمھارے یار کی الفت نہیں رہی حالت تمھاری جاذب نصرت نہیں رہی محمق آگیا ہے سر میں وہ فطنت نہیں رہی گل آگیا ہے دل میں جلادت نہیں رہی وہ علم و معرفت وہ فراست نہیں رہی وہ فکر وہ قیاس وہ حکمت نہیں رہی دنیا و دیں ہمیں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی اب تم کو غیر قوموں پر سبقت نہیں رہی وہ انس و شوق و وجد وہ طاعت نہیں رہی ظلمت کی کچھ بھی حد و ر نہایت نہیں رہی ہر وقت جھوٹ سچ کی تو عادت نہیں رہی نور خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی کو سو ہے گند دل میں طہارت نہیں رہی نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی خوانِ تہی پڑا ہے وہ نعمت نہیں رہی ہیں بھی ہے ایک قشر ۔ حقیقت نہیں رہی مولی سے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی دل مر گئے ہیں نیکی کی قدرت نہیں رہی سب پر یہ اک بلا ہے کہ وحدت نہیں رہی اک پھوٹ پڑ رہی ہے مودت نہیں رہی 70