درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 65

میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں ہی بہتر کہ خاک اپنی اُڑاؤں کہاں ہم اور کہاں دنیائے مادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْآعَادِي کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے جو مرتا ہے وہی زندوں میں جاوے جو جلتا ہے وہی مُردے جلا دے ثمر ہے دور کا کب غیر کھاوے چلو اوپر کو وہ نیچے نہ آوے نہاں اندر نہاں ہے کون لاوے غریق عشق وہ موتی اُٹھاوے وہ دیکھے نیستی، رحمت دکھاوے خودی اور خود روی کب اُس کو بھاوے مجھے تو نے یہ دولت اسے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي کہاں تک حرص و شوق مال فانی؟ اُٹھو ڈھونڈو متاع آسمانی کہاں تک خوش آمال و آمانی یہ سو سو چھید ہیں تم میں نہانی تو پھر کیونکر ملے وہ یار جانی کہاں غربال میں رہتا ہے پانی کرو کچھ فکر ملک جاودانی یہ ملک و مال چھوٹی ہے کہانی بسر کرتے ہو غفلت میں جوانی مگر دل میں یہی تم نے ہے ٹھانی خدا کی ایک بھی تم نے نہ مانی ذرا سوچو یہی ہے زندگانی؟ 65