درثمین مع فرہنگ — Page 64
تجھے سب زور و قدرت ہے خُدایا مجھے پایا ہر اک مطلب کو پایا ہر اک عاشق نے ہے اک بہت بنایا ہمارے دل میں یہ دلبر سمایا وہی آرام جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں رَبُّ البرایا ہوا ظاہر وہ مجھ پر بالآبادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي مجھے اس یار سے پیوند جاں ہے وہی جنت ، وہی دار الاماں ہے بیاں اُس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے یہ کیا احساں ترے ہیں میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي تری نعمت کی کچھ قلت نہیں ہے یہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے شُمارِ فَضْل اور رحمت نہیں ہے مجھے اب مشکر کی طاقت نہیں ہے یہ کیا احسان ہیں تیرے میرے ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي ترے کوچہ میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں تجبت چیز کیا کسی کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں 64