درثمین مع فرہنگ — Page 63
بنائی تو نے پیارے میری ہر بات دکھائے تو نے احساں اپنے دن رات ہر اک میدان میں دیں تو نے فتوحات بد اندیشوں کو تونے کر دیا مات ہر اک پگڑی ہوئی تو نے بنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْآعَادِي تری نصرت سے اب دشمن تبہ ہے ہر اک جا میں ہمارا تو پتہ ہے ہر اک بد خواہ اب کیوں رویہ ہے کہ وہ مثلِ خُوفِ مہر و مہ ہے سیاہی چاند کی منہ نے دکھا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي ترے فضلوں سے جاں بستاں سرا ہے ترے نوروں سے دل شمس الضحیٰ ہے اگر اندھوں کو انکار و اباء ہے وہ کیا جانیں کہ اس سینہ میں کیا ہے کہیں جو کچھ کہیں سر پر خُدا ہے پھر آخر ایک دن روز جزا ہے بدی کا کھیل بدی اور نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي لے دشمن کے لفظ سے اس جگہ وہ حامد مراد ہیں جو ہر ایک طور سے مجھے تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں لوگوں کو میری نسبت بدظن کرتے ہیں۔ اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی میں بھی جھوٹی شکایتیں کرتے ہیں اور گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جو میرے مخلصانہ خیالات ہیں اُن کو چھپاتے ہیں ۔ منہ 63