درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 62

وہ ہو آوارہ ہر دشت و وادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي ہوئے ہم تیرے اسے قادر توانا ترے در کے ہوئے اور تجھ کو مانا ہمیں بس ہے تری درگہ پر آنا مصیبت سے ہمیں ہر دم بچانا کہ تیرا نام ہے غفار و ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تجھے دنیا میں ہے کیس نے پکارا کہ پھر خالی گیا رقیمت کا تو پھر ہے کس قدر اُس کو سہارا کہ جس کا تو ہی ہے سب سے پیارا ہوا میں تیرے فضلوں کا منادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أُخْرَى الْأَعَادِي میں کیونکر گن سکوں تیری عنایات ترے فضلوں سے پر ہیں میرے دن رات مری خاطر دکھائیں تو نے آیات رحم سے مری سن لی ہر اک بات کرم سے تیرے دشمن ہو گئے مات عطار کیں تو نے سب میری مرادات پڑا پیچھے مرے جو مغول بد ذات پڑی آخر خود اس موذی پر آفات ہوا انجام سب کا نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي 62