درثمین مع فرہنگ — Page 47
تیرے احسانوں کا کیوں کر ہو بیاں اسے پیار سے مجھ پہ بے حد ہے کرم اے مرے جاناں تیرا تخت پر شاہی کے ہے مجھ کو بٹھایا تو نے دین و دنیا میں ہوا مجھ پہ ہے احساں تیرا کس زباں سے میں کروں شکر۔ کہاں ہے وہ زباں کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا مجھ پہ وہ لطف کیئے تو نے جو برترز خیال ذات برتر ہے تری ۔ پاک ہے ایواں تیرا چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے مرے جاناں تیرا کیس کے دل میں یہ ارادے تھے یہ تھی کیس کو خبر کون کہتا تھا کہ یہ سخت ہے کوششاں تیرا پر میرے پیارے ، یہی کام ترے ہوتے ہیں ہے ہی فضل تیری شان کے شایاں تیرا فضل سے اپنے بچا مجھ کو ہر اک آفت سے صدق سے ہم نے لیا ہاتھ میں داماں تیرا 47