درثمین مع فرہنگ — Page 45
شکوہ کی کچھ نہیں جا یہ گھر ہی بے بقا ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي اے دوستو پیارو ! محقے کو مت پکارو کچھ زادِ راہ لے لو ، کچھ کام میں گزارو دُنیا ہے جائے فانی دل سے اسے اُتارو روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن يَرَانِي یه روز جی مت لگاؤ اس سے دل کو چھڑاؤ اس سے رغبت ہٹاؤ اس سے پس دور جاؤ اس سے یارو! یہ اژدھا ہے جاں کو بچاؤ اس سے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي قرآن کتاب رحماں سکھلاتے راہ عرفاں جو اس کو پڑھنے والے ان پر خدا کے فیضاں اُن پر خدا کی رحمت جو اس پر لائے ایماں یہ روز ہے مُبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي ہے چشمہ ہدایت جس کو ہو یہ عنایت یہ ہیں خُدا کی باتیں ان سے ملے ولایت یہ نور دل کو بخشے دل میں کرے سرائیت یہ روز ہے مُبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي قرآن کو یاد رکھنا پاک اعتقاد رکھنا تفکر معاد رکھنا پاس اپنے زاد لکھنا اکسیر ہے پیارے صدق و سداد رکھنا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي محمود کی آئین مطبوعہ ، جون ۱۸۹۶ در روحانی خزائن ۱۲ ص ۳۱۹) / 45