درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 44

تجھ پر مرا تو گُلی در پر ترے یہ سر ہے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي جب تجھ سے دل لگایا سو سو ہے غم اُٹھایا تن خاک میں ملایا جاں پر وبال آیا پر شکر اے خُدایا ! جاں کھو کے تجھ کو پایا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي دیکھا ہے تیرا منہ جب چمکا ہے ہم پہ کو کب مقصود مل گیا سب ہے جام اب کباب تیرے کرم سے یا رب میرا کہ آیا مطلب یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن يَرَانِي احباب سارے آئے تو نے یہ دن دکھائے تیرے کرم نے پیارے یہ مہرباں بگائے یہ دن چڑھا مبارک مقصود جس میں پائے یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ تَرَانِي مہماں جو کر کے اُلفت آئے بصد محبت دل کو ہوئی ہے فرحت اور جاں کو میری راحت پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَن يَرَانِي دنیا بھی اک سرا ہے پچھڑے گا جو ملا ہے گر سو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے 44