درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 37

محمود کی آمین حمد وثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اس کا کوئی ۔ نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ ، غیر اس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یار جانی دل میں مرے یہی ہے سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي ہے پاک پاک قدرت عظمت ہے اسکی عظمت لرزاں ہیں اہل قربت کروبیوں پہ ہیبت ہے عام اس کی رحمت کیونکر ہو شکر نعمت ہم سب ہیں اُس کی صنعت اُس سے کرو محبت غیروں سے کرنا اگفت کب چاہے اُس کی غیرت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي جو کچھ نہیں ہے راحت سب اس کی خود منت اُس سے ہے دل کی بیعت دل میں ہے اُس کی عظمت بہتر ہے اُس کی طاعت۔ طاعت میں ہے سعادت یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ يَرَانِي سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا 37