درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 34

دکھاؤ ذرا آج اُس کا اثر اگر صدق ہے جلد دوڑو ادھر گرو نے تو کر کے دکھایا تمھیں وه رسته چلو جو بتایا تمھیں کہاں ہیں جو نانک کے ہیں خاک پا جو کرتے ہیں اُس کے لئے جاں فدا کہاں ہیں جو اُس کے لئے مرتے ہیں جو ہے واک اس کا وہی کرتے ہیں کہاں ہیں جو ہوتے ہیں اُس پر نثار جھکاتے ہیں سر اپنے کو کر کے پیار کہاں ہیں جو رکھتے ہیں صدق و ثبات گرو سے ملے جیسے شیر و نبات کہاں ہیں جو الفت سے سرشار ہیں کہاں ہیں کہ جب اُس سے کچھ پاتے ہیں تعشق سے قرباں ہوئے جاتے ہیں جو مرنے کو بھی دل سے تیار ہیں کہاں ہیں جو وہ سنجل سے دور ہیں محبت سے نانک کی معمور ہیں کہاں ہیں جو اس رہ میں پر جوش ہیں گرو کے تعشق میں مدہوش ہیں کہاں ہیں وہ نانک کے عاشق کہاں کہ آیا ہے نزدیک اب را متحاں کہاں ہیں جو بھرتے ہیں الفت کا دم اطاعت سے سر کو بنا کر قدم گرو جس کے اس رہ پہ ہو دیں فدا وہ چیلا نہیں جو نہ دے سر جھکا اگر ہاتھ سے وقت جاوے نکل تو پھر ہاتھ کل کل کے رونا ہے کل نہ مردی ہے تیر اور تلوار سے بنو مرد مردوں کے کردار سے 34