درثمین مع فرہنگ — Page 33
کہ دین خدا دین اسلام ہے جو ہو منکر اس کا بد انجام ہے محمد وہ نبیوں کا سردار ہے کہ جس کا عدو مثل مردار ہے تجھے چولے سے کچھ تو آوے جیا ذرا دیکھ ظالم کہ کرتا ہے کیا کہو جو رضا ہو مگر سن لو بات وہ کہنا کہ جس میں نہیں بکش پات کہ حق جو سے کرتار کرتا ہے پیار وه انساں نہیں جو نہیں حق گذار کہو جب کہ پوچھے گا مولی حساب تو بھائیو بتاؤ کہ کیا ہے جواب ؟ میں کہتا ہوں اک بات اسے نیک نام ذرا غور سے اس کو سنیو تمام کہ بے شک یہ چولہ پُر از نور ہے تمرد ، وفا سے بہت دور ہے دکھائیں گے چولہ تمھیں کھول کر کہ دو اُس کا اثر ذرا بول کر ہیں پاک چولہ رہا اک نشاں گرو سے کہ تھا خلق پر مہرباں اسی پر دو شالے چڑھے اور نر ہیں فخر سکھوں کا ہے سربسر یہی ملک و دولت کا تھا اک سنتوں عمل بد کہتے ہو گئے سرنگوں خدا کے لئے چھوڑو اب بغض و کیں ذرا سوچو باتوں کو ہو کر آئیں 6 وه صدق و محبت وہ مہر و وفا جو نانگ سے رکھتے تھے تم برملا 33