درثمین مع فرہنگ — Page 32
یہ چولہ کہ قدرت کی تحریر ہے ہی رہ نما اور یہی پیر ہے یہ نگر نے خود لکھ دیا صاف صاف کہ ہے وہ کلام خدا بے گزاف وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے اُسی حتی و قیوم و غفار نے خُدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا وہی ہے خدا کا کلام صف یہی راہ ہے جس کو بھولے ہو تُم اُٹھو یارو اب مت کرو راہ گم و یہ نورِ خدا ہے خُدا سے ملا ارے جلد آنکھوں سے اپنی لگا ارے لوگو با تم کو نہیں کچھ خبر جو کہتا ہوں میں اس پر رکھنا نظر زمانہ تعصب سے رکھتا ہے رنگ کریں حق کی تکذیب سب بے درنگ وہی ہیں کی راہوں کی سنتا ہے بات کہ ہو مشقی مرد اور نیک ذات مگر دوسرے سارے ہیں پر عناد پیارا ہے اُن کو غرور اور فساد بناتے ہیں باتیں سراسر دروغ نہیں بات میں اُن کی کچھ بھی فروغ بھلا بعد چولے کے آے پر غرور وہ کیا کسر باقی ہے جس سے تو دور تو ڈرتا ہے لوگوں سے اسے بے ہنر خُدا سے تجھے کیوں نہیں ہے خطر ؟ یہ تحریر چولہ کی ہے راک زباں ! سُنو وہ زباں سے کرے کیا بیاں 32