درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 31

کہا دور ہو جاؤ تم ہار کے یہ خلعت ہے ہاتھوں سے کرتار کے بشر سے نہیں تا اتارے بشر خدا کا کلام اس پہ ہے جلوہ گر دُعا کی تھی اُس نے کہ اسے کردگار بتا مجھ کو رہ اپنی خود کر کے پیار یہ چولہ تھا اُس کی دُعا کا اثر یہ قدرت کے ہاتھوں کا تھا سربسر یہی چھوڑ کر وہ ولی مر گیا نصیحت تھی مقصد ادا کر گیا اُسے مردہ کہنا خطا ہے خطا کہ زندوں میں وہ زندہ دل جا ہلا وہ تن گم ہوا یہ نشاں رہ گیا ذرا دیکھ کر اس کو آنسو بہا کہاں ہے محبت کہاں ہے دفا پیاروں کا چولہ ہوا کیوں بڑا وفادار عاشق کا ہے یہ نشاں کہ دلبر کا خط دیکھ کر نا گہاں لگاتا ہے آنکھوں سے ہو کر فدا ہیں دیں ہے دلدادگاں کا سدا مگر جس کے دل میں محبت نہیں اُسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں اُٹھو جلد تر لاؤ فوٹو گراف ذرا کھینچو تصویر چولے کی صاف کہ دنیا کو ہر گز نہیں ہے بقا فنا سب کا انجام ہے جز خدا سو لو عکس جلدی کہ اب ہے ہر اس مگر اُس کی تصویر رہ جاتے پاس 31