درثمین مع فرہنگ — Page 30
تو انکار سے وقت کھوتا ہے کیا تجھے کیا خبر عشق ہوتا ہے کیا ؟ مجھے پوچھو اور میرے دل سے یہ راز مگر کون پوچھے بجز عشق باز جو برباد ہونا کرے اختیار خُدا کے لئے ہے وہی بختیار جو اُس کے لئے کھوتے ہیں پاتے ہیں جو مرتے ہیں وہ زندہ ہو جاتے ہیں وہی وحدہ لا شریک اور عزیز نہیں اس کی مانند کوئی بھی چیز اگر جان کروں اس کی رہ میں خدا تو پھر بھی نہ ہو شکر اس کا ادا ئیں چولے کا کرتا ہوں پھر کچھ بیاں کہ ہے یہ پیارا مجھے جیسے جاں ذرا جہنم ساکھی کو پڑھ اسے جواں کہ انگر نے لکھا ہے اس میں عیاں کہ قدرت کے ہاتھوں کے تھے وہ رقم خُدا ہی نے لکھا بہ فضل و گرم وہ کیا ہے یہی ہے کہ اللہ ہے ایک محمد نبی اُس کا پاک اور نیک بغیر اس کے دل کی صفائی نہیں بجز اس کے غم سے رہائی نہیں یہ معیار ہے دیں کی تحقیق کا کھلا فرق دجال و صدیق کا ذرا سوچھ یارو ! گر انصاف ہے یہ سب کشمکش اس گھڑی صاف ہے یہ نانگ سے کرنے لگے جب جُدا رہے زور کر کر کے بے مدعا " 30