درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 25

کہ پردے میں قادر کے اسرار ہیں کہ عقلیں وہاں پیچ و بے کار ہیں تو یک قطره داری از عقل و خرد مگر قدرتش بحر بے حد وعد اگر بشنوی قصه صادقال مجتبال سر خود چو مستریاں تو خود را خرد مند فهمیده مقامات مردان کجا دیده غَرَض اُس نے پہنا وہ فرخ لباس نہ رکھتا تھا مخلوق سے کچھ ہراس وہ پھرتا تھا کوچوں میں چولہ کے ساتھ دکھاتا تھا لوگوں کو قدرت کے ہاتھ کوئی دیکھتا جب اُسے دُور سے تو ملتی خبر اس کو اس نور سے جسے دور سے وہ نظر آتا تھا اُسے چولا خود بھید سمجھاتا تھا وہ ہر لحظہ چولے کو دکھلاتا تھا اسی میں وہ ساری خوشی پاتا تھا غرض یہ تھی تا یار خورسند ہو خطا دور ہو پُختہ پیوند جو عشاق اس ذات کے ہوتے ہیں وہ ایسے ہی ڈر ڈر کے جال کھوتے ہیں ہو وہ اس یار کو صدق دکھلاتے ہیں اسی غم میں دیوانہ بن جاتے ہیں وہ جاں اس کی رہ میں فدا کرتے ہیں وہ ہر لحظہ سو سو طرح مرتے ہیں وہ کھوتے ہیں سب کچھ کھندق و صفا مگر اس کی ہو جائے حاصل رضا 25