درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 26

یہ دیوانگی عشق کا ہے نشاں نہ سمجھے کوئی اس کو جز عاشقاں غرض جوش الفت سے مجذوب وار یہ نانگ نے چولا بنایا شعار مگر اس سے راضی ہو وہ داستان کہ اس بن نہیں دل کو تاب و تواں خدا کے جو ہیں وہ یہی کرتے ہیں وہ لعنت سے لوگوں کی کب ڈرتے ہیں وہ ہو جاتے ہیں سارے دلدار کے نہیں کوئی اُن کا بجز یار کے وہ جاں دینے سے بھی نہ گھبراتے ہیں کہ سب کچھ وہ کھو کر اُسے پاتے ہیں ۔ وه دلبر کی آواز بن جاتے ہیں وہ اس جال کے ہمراز بن جاتے ہیں وہ ناداں جو کہتا ہے در بند ہے نہ الہام ہے اور نہ پیوند ہے نہیں عقل اس کو نہ کچھ غور ہے اگر دید ہے یا کوئی اور ہے یہ سچ ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں خدا سے خُدا کی خبر لاتے ہیں اگر اس طرف سے نہ آوے خبر تو ہو جاتے یہ راہ زیر و زیر طلب گار ہو جائیں اُس کے تباہ وہ مر جاتیں دیکھیں اگر بند راہ مگر کوئی معشوق ایک نہیں کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض و کیں خدا پر تو پھر یہ گماں عیب ہے کہ وہ راحم و عالم الغیب ہے 26