درثمین مع فرہنگ — Page 24
مجھے بخش اے خالق العالمین تو سبوح وَ إِنِّي مِنَ الظَّلِمِين میں تیرا ہوں اے میرے کو تار پاک نہیں تیری راہوں میں خوف ہلاک ترے در پہ جاں میری قربان ہے محبت تری خود مری جان ہے وہ طاقت کہ ملتی ہے ابرار کو وہ دے مجھ کو دکھلا کے اسرار کو خطا دار ہوں مجھ کو وہ رہ بتا کہ حاصل ہو جس رہ سے تیری رضا اسی عجز میں تھا تذلل کے ساتھ کہ پکڑا خدا کی عنایت نے ہاتھ ہوا غیب سے ایک چولا عیاں خدا کا کلام اس پہ تھا بے گماں شہادت تھی اسلام کی جابجا کہ سچا وہی دیں ہے اور رہ نما یہ لکھا تھا اُس میں بخط جکی کہ اللہ ہے اک اور محمد نبی ہوا محکم بہن اس کو اسے نیک مرد اُتر جائے گی اس سے وہ ساری گرد جو پوشیدہ رکھنے کی تھی اک خطا یہ کفارہ اس کا ہے اے با وفا یہ ممکن ہے کشفی ہو یہ ماجرا دیکھایا گیا ہو به حکم خدا پھر اُس طرز پر یہ بنایا گیا حکم خدا پھر لکھایا گیا مگر یہ بھی ممکن ہے اسے سچتہ کار کہ خود غیب سے ہو یہ سب کا روبار رم 24