درثمین مع فرہنگ — Page 23
بتایا گیا اس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں گر مرد عارف فلاں مرد ہے وہ اسلام کے راہ میں فرد ہے ملا تب خُدا سے اُسے ایک پیر کہ چشتی طریقہ میں تھا دستگیر وہ بیعت سے اُس کے ہوا فیضیاب سُنا شیخ سے ذکر راہ صواب پھر آیا وطن کی طرف اُس کے بعد ملے پیر کے فیض سے بخت سعد کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا زباں چپ تھی اور سینہ میں نور تھا نہاں دل میں تھا درد و سوز و نیاز شہریوں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز پھر آخر کو مارا صداقت نے بوش تعشق سے جاتے رہے اُس کے ہوش ہوا پھر تو حق کے چھپانے سے تنگ محبت نے بڑھ بڑھ کے دکھلاتے رنگ کہا یہ تو مجھ سے ہوا اک گناہ کہ پوشیدہ رکھی سیمائی کی راہ یہ صدق و وفا سے بہت دور تھا کہ غیروں کے کونوں سے دل چور تھا تصور سے اس بات کے ہو کے زار کہا رو کے اے میرے پروردگار ! ترے نام کا مجھ کو اقرار ہے ترا نام غفار دستار ہے بلا ترتیب تو حتی قدوس ہے ترے بن ہر اک راہ سالوس ہے 23